سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
87. باب : الحجامة للمحرم
باب: محرم کا پچھنا لگوانا۔
حدیث نمبر: 3082
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الضَّيْفِ ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ عَنْ رَهْصَةٍ أَخَذَتْهُ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں ایک درد کی وجہ سے جو آپ کو ہوا تھا، پچھنے لگوائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3082]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2778، ومصباح الزجاجة: 1069)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/357، 363) (صحیح)» (سند میں محمد بن أبی الضیف ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث دوسرے طرق سے صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3863) نسائي (2851)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 487
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3863) نسائي (2851)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 487
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3863
| احتجم على وركه من وثء كان به |
سنن ابن ماجه |
3082
| احتجم وهو محرم عن رهصة أخذته |
سنن النسائى الصغرى |
2851
| احتجم وهو محرم من وثء كان به |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3082 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3082
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
احرام کی حالت میں سینگی لگوانا جائز ہے۔
(2)
اگر سینگی لگوانے میں بال اتروانے پڑیں تو فدیہ دے دیا جائے۔
فوائد و مسائل:
(1)
احرام کی حالت میں سینگی لگوانا جائز ہے۔
(2)
اگر سینگی لگوانے میں بال اتروانے پڑیں تو فدیہ دے دیا جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3082]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2851
بیماری کے سبب محرم کے پچھنا لگوانے کا بیان۔
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تکلیف کے باعث جو آپ کو لاحق تھی پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2851]
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تکلیف کے باعث جو آپ کو لاحق تھی پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2851]
اردو حاشہ:
(1) مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح لغیرہ قرار دیا ہے اور راجح رائے انھی کی ہے۔ دیکھیے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام احمد: 23/ 182) بنا بریں بوقت ضرورت سینگی لگوائی جا سکتی ہے۔ دیگر صحیح روایات سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔
(2) ”موچ“ یعنی ہڈی کو نقصان نہ پہنچے، گوشت اور پٹھوں کو تکلیف ہو یا ہڈی کو چوٹ تو لگے مگر وہ ٹوٹنے سے بچ جائے۔ سینگی کے جواز وغیرہ کی بحث اوپر حدیث: 2848 میں گزر چکی ہے۔
(1) مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح لغیرہ قرار دیا ہے اور راجح رائے انھی کی ہے۔ دیکھیے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام احمد: 23/ 182) بنا بریں بوقت ضرورت سینگی لگوائی جا سکتی ہے۔ دیگر صحیح روایات سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔
(2) ”موچ“ یعنی ہڈی کو نقصان نہ پہنچے، گوشت اور پٹھوں کو تکلیف ہو یا ہڈی کو چوٹ تو لگے مگر وہ ٹوٹنے سے بچ جائے۔ سینگی کے جواز وغیرہ کی بحث اوپر حدیث: 2848 میں گزر چکی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2851]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3863
رگ کاٹنے (فصد کھولنے) اور پچھنا لگانے کی جگہ کا بیان۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا اپنی سرین پر پچھنے لگوائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3863]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا اپنی سرین پر پچھنے لگوائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3863]
فوائد ومسائل:
بغرض علاج اگر ستر کا کوئی حصہ کھولنا پڑے تو جا ئز ہے۔
بغرض علاج اگر ستر کا کوئی حصہ کھولنا پڑے تو جا ئز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3863]
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري