سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : الأضاحي واجبة هي أم لا
باب: قربانی واجب ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 3123
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَاب ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو (قربانی کی) وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ پھٹکے“۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3123]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس (قربانی کرنے کی) گنجائش ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو اسے چاہیے کہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے۔“ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3123]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13938، ومصباح الزجاجة: 1084)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/321، 6/220) (حسن)» (سند میں عبد اللہ بن عیاش ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی بناء پر حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت عالم | |
👤←👥عبد الله بن عياش القتباني، أبو حفص عبد الله بن عياش القتباني ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج | صدوق يغلط | |
👤←👥زيد بن الحباب التميمي، أبو الحسين زيد بن الحباب التميمي ← عبد الله بن عياش القتباني | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← زيد بن الحباب التميمي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3123
| من كان له سعة ولم يضح فلا يقربن مصلانا |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3123 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ابن ماجہ 3123
جو قربانی کا استخفاف و توہین کرتے ہوئے استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرے
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«من كان له سعة ولم يضحّ فلا يقر بنّ مصلانا»
جس آدمی کے پاس طاقت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ [سنن ابن ماجه: 3123 وسنده حسن، وصححه الحاكم 4/ 232 ووافقه الذهبي ورواه احمد 2 / 321]
اس روایت میں عبداللہ بن عیاش المصری مختلف فیہ راوی ہیں جن پر کبار علماء وغیرہم نے جرح کی اور جمہور نے توثیق کی، تقریباًً پانچ اور چھ کا مقابلہ ہے۔!
روایتِ مذکورہ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص قربانی کا استخفاف و توہین کرتے ہوئے استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرے تو اسے مسلمانوں کی عیدگاہ سے دور رہنا چاہئے یعنی یہ روایت قربانی کے استحباب وسُنیت پر محمول اور منکرینِ حدیث کا رد ہے۔
اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
ماہنامہ الحدیث حضرو، شمارہ 122، صفحہ 17 تا 25
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«من كان له سعة ولم يضحّ فلا يقر بنّ مصلانا»
جس آدمی کے پاس طاقت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ [سنن ابن ماجه: 3123 وسنده حسن، وصححه الحاكم 4/ 232 ووافقه الذهبي ورواه احمد 2 / 321]
اس روایت میں عبداللہ بن عیاش المصری مختلف فیہ راوی ہیں جن پر کبار علماء وغیرہم نے جرح کی اور جمہور نے توثیق کی، تقریباًً پانچ اور چھ کا مقابلہ ہے۔!
روایتِ مذکورہ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص قربانی کا استخفاف و توہین کرتے ہوئے استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرے تو اسے مسلمانوں کی عیدگاہ سے دور رہنا چاہئے یعنی یہ روایت قربانی کے استحباب وسُنیت پر محمول اور منکرینِ حدیث کا رد ہے۔
اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
ماہنامہ الحدیث حضرو، شمارہ 122، صفحہ 17 تا 25
[ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 17]
الشیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ، سنن ابن ماجہ 3123
جو استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرے، التمهید لابن عبد البر: 23/191، وسندہ صحیح
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«مَنْ قَدَرَ عَلَى سَعَةٍ فَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا .»
”جو استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرے، وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ پھٹکے۔“ [التمهید لابن عبد البر: 23/191، وسندہ صحیح]
اس سے قربانی کا واجب ہونا ثابت نہیں ہوتا۔
مرفوع روایت:
اس بارے میں کوئی مرفوع روایت ثابت نہیں۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ فَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا .»
”استطاعت و قدرت کے باوجود قربانی نہ کرنے والا ہماری عید گاہوں کے قریب نہ پھٹکے۔“ [مسند احمد: 2/321، سنن ابن ماجہ: 3123، المستدرک للحاکم: 2/390]
یہ روایت مرفوعاً ضعیف و منکر ہے۔
عبد اللہ بن عیاش قتبانی ضعیف ہے۔
◈ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«لَيْسَ بِالْمَتِينِ .»
”یہ پختہ کار راوی نہیں، (منکر روایات بیان کر دیتا ہے)۔“ [الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم: 5/126]
◈ امام ابن یونس رحمہ اللہ نے ”منکر الحدیث“ کہا ہے۔ [الإكمال لابن ماکولا: 6/72، تہذیب التہذیب: 5/351]
◈ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«لَيْسَ مَعْرُوفًا بِالثِّقَةِ .»
”یہ ثقہ نہیں ہے۔“ [المحلّٰى بالآثار: 6/8]
◈ اس روایت کو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے ”منکر“ کہا ہے۔ [الفروسیۃ لابن القیم، ص 200، کتاب الفروع لابن مفلح: 2/309]
◈ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے اس روایت پر جرح کی ہے۔ [المحلّٰى بالآثار: 6/7]
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«اُخْتُلِفَ فِي رَفْعِهِ وَوَقْفِهِ وَالْمَوْقُوفُ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ قَالَهُ الطَّحَاوِيُّ وَغَيْرُهُ وَمَعَ ذَلِكَ فَلَيْسَ صَرِيحًا فِي الْإِيجَابِ .»
”اس حدیث کے مرفوع اور موقوف ہونے میں اختلاف ہے، اس کا موقوف ہونا راجح ہے، جیسا کہ امام طحاوی وغیرہ رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ قربانی کے وجوب پر صراحت نہیں کرتی۔“
◈ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اس روایت کا موقوف ہونا ہی صحیح قرار دیا ہے۔ [عِلَل الدارقطني: 2023]
◈ حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«الْأَغْلَبُ عِنْدِي فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ مَوْقُوفٌ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ .»
”میرے نزدیک صواب یہی ہے کہ یہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی موقوف روایت ہے۔“ [التمہید لما في المؤطا من المعاني والأسانید: 23/191]
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«مَنْ قَدَرَ عَلَى سَعَةٍ فَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا .»
”جو استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرے، وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ پھٹکے۔“ [التمهید لابن عبد البر: 23/191، وسندہ صحیح]
اس سے قربانی کا واجب ہونا ثابت نہیں ہوتا۔
مرفوع روایت:
اس بارے میں کوئی مرفوع روایت ثابت نہیں۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ فَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا .»
”استطاعت و قدرت کے باوجود قربانی نہ کرنے والا ہماری عید گاہوں کے قریب نہ پھٹکے۔“ [مسند احمد: 2/321، سنن ابن ماجہ: 3123، المستدرک للحاکم: 2/390]
یہ روایت مرفوعاً ضعیف و منکر ہے۔
عبد اللہ بن عیاش قتبانی ضعیف ہے۔
◈ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«لَيْسَ بِالْمَتِينِ .»
”یہ پختہ کار راوی نہیں، (منکر روایات بیان کر دیتا ہے)۔“ [الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم: 5/126]
◈ امام ابن یونس رحمہ اللہ نے ”منکر الحدیث“ کہا ہے۔ [الإكمال لابن ماکولا: 6/72، تہذیب التہذیب: 5/351]
◈ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«لَيْسَ مَعْرُوفًا بِالثِّقَةِ .»
”یہ ثقہ نہیں ہے۔“ [المحلّٰى بالآثار: 6/8]
◈ اس روایت کو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے ”منکر“ کہا ہے۔ [الفروسیۃ لابن القیم، ص 200، کتاب الفروع لابن مفلح: 2/309]
◈ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے اس روایت پر جرح کی ہے۔ [المحلّٰى بالآثار: 6/7]
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«اُخْتُلِفَ فِي رَفْعِهِ وَوَقْفِهِ وَالْمَوْقُوفُ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ قَالَهُ الطَّحَاوِيُّ وَغَيْرُهُ وَمَعَ ذَلِكَ فَلَيْسَ صَرِيحًا فِي الْإِيجَابِ .»
”اس حدیث کے مرفوع اور موقوف ہونے میں اختلاف ہے، اس کا موقوف ہونا راجح ہے، جیسا کہ امام طحاوی وغیرہ رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ قربانی کے وجوب پر صراحت نہیں کرتی۔“
◈ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اس روایت کا موقوف ہونا ہی صحیح قرار دیا ہے۔ [عِلَل الدارقطني: 2023]
◈ حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«الْأَغْلَبُ عِنْدِي فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ مَوْقُوفٌ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ .»
”میرے نزدیک صواب یہی ہے کہ یہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی موقوف روایت ہے۔“ [التمہید لما في المؤطا من المعاني والأسانید: 23/191]
[فتاوی امن پوری، حدیث/صفحہ نمبر: 999]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3123
فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث سے بظاہر قربانی کا وجوب ثابت ہوتا ہے لیکن دوسرے دلائل سے اس کا استحباب واستنان معلوم ہوتا ہے اس لیے محدثین نے ان سارے دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ قربانی سنت مؤکدہ ہے۔
یعنی ایک اہم اور مؤکد حکم ہے۔
فرض نہیں تاہم استطاعت کے باوجود اس سنت مؤکدہ سے گریز کسی طرح بھی صحیح نہیں۔
➋ قربانی مسلمانوں کی اجتماعیت کا مظہر ہے اور اس سے آپس کے تعلقات بہتر ہوتے ہیں۔
➌ قربانی نہ کرنے والا مسلمانوں کی خوشیوں میں شریک ہونے کا حق نہیں رکھتا تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے نماز عید پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ مقصد اسے تنبیہ کرنا ہے تاکہ وہ قربانی ترک نہ کرے۔
➊ اس حدیث سے بظاہر قربانی کا وجوب ثابت ہوتا ہے لیکن دوسرے دلائل سے اس کا استحباب واستنان معلوم ہوتا ہے اس لیے محدثین نے ان سارے دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ قربانی سنت مؤکدہ ہے۔
یعنی ایک اہم اور مؤکد حکم ہے۔
فرض نہیں تاہم استطاعت کے باوجود اس سنت مؤکدہ سے گریز کسی طرح بھی صحیح نہیں۔
➋ قربانی مسلمانوں کی اجتماعیت کا مظہر ہے اور اس سے آپس کے تعلقات بہتر ہوتے ہیں۔
➌ قربانی نہ کرنے والا مسلمانوں کی خوشیوں میں شریک ہونے کا حق نہیں رکھتا تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے نماز عید پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ مقصد اسے تنبیہ کرنا ہے تاکہ وہ قربانی ترک نہ کرے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3123]
Sunan Ibn Majah Hadith 3123 in Urdu
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي