🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب : الرخصة في ذلك في الكنف وإباحته دون الصحارى
باب: صحراء و میدان کے علاوہ پاخانہ میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 323
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عِيسَى الْحَنَّاطِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فِي كَنِيفِهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ"، قَالَ عِيسَى: فَقُلْتُ ذَلِكَ لِلشَّعْبِيِّ، فَقَالَ: صَدَقَ ابْنُ عُمَرَ، وَصَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ، أَمَّا قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ:" فِي الصَّحْرَاءِ لَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا"، وَأَمَّا قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ: فَإِنَّ الْكَنِيفَ لَيْسَ فِيهِ قِبْلَةٌ، اسْتَقْبِلْ فِيهِ حَيْثُ شِئْتَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف منہ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔ عیسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث شعبی سے بیان کی تو انہوں نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سچ کہا، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی سچ کہا، لیکن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول یہ ہے کہ صحراء میں نہ تو قبلہ کی جانب منہ کرو نہ پیٹھ، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول یہ ہے کہ بیت الخلاء میں قبلہ کا اعتبار نہیں، جدھر چاہو منہ کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 323]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت الخلاء میں قبلے کی طرف کر کے بیٹھے ہوئے دیکھا۔ (حدیث کی سند میں ایک راوی) عیسیٰ خیاط بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام شعبی رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی سچ کہا اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی سچ کہا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کا مطلب ہے کہ صحرا (اور کھلے میدان) میں قبلے کی طرف منہ یا پیٹھ کر کے نہ بیٹھے، اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بیت الخلاء کے اندر قبلے کا خیال رکھنا ضروری نہیں، وہاں تم جدھر چاہو منہ کر سکتے ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 323]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8251، ومصباح الزجاجة: 130)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/97، 99، 114) (ضعیف جدًا)» ‏‏‏‏ (سند میں عیسیٰ بن أبی عیسیٰ الحناط متروک الحدیث ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف جدًا
عيسي بن أبي عيسي الحناط: متروك (تقريب: 5317)
والحديث ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 388

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عيسى بن أبي عيسى الغفاري، أبو محمد، أبو موسى
Newعيسى بن أبي عيسى الغفاري ← نافع مولى ابن عمر
متروك الحديث
👤←👥عبيد الله بن موسى العبسي، أبو محمد
Newعبيد الله بن موسى العبسي ← عيسى بن أبي عيسى الغفاري
ثقة يتشيع
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← عبيد الله بن موسى العبسي
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
323
رأيت رسول الله في كنيفه مستقبل القبلة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 323 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث323
اردو حاشہ:
(1)
  حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ روایت اس سند سے تو ضعیف ہے تاہم دوسرے طرق سے اس کا حسن ہونا ثابت ہے۔
عیسی خیاط اور انھیں حناط بھی کہتے ہیں۔ دیکھیے: (تقریب التھذیب: 5352)
نے حضرت ابو ہریرہ کی جس حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے غالبا اس سے مراد صحیح مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں حضرت ابو ہریرہ ؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا:
جب کوئی شخص قضائے حاجت کے لیے بیٹھے تو قبلے کی طرف منہ بھی نہ کرے اور پیٹھ بھی نہ کرے (صحيح مسلم، الطهارة، باب الاستطابة، حديث: 265)
اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث یہی ہے جو زیر مطالعہ ہے جس میں چار دیواری کے اندر اس کی اجازت معلوم ہوتی ہے۔
علاوہ ازیں حافظ ابن حجر ؒ نے وضاحت کی ہےکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کسی غرض سے چھت پر چڑھےتو ان کی نظر اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑ گئی جان بوجھ کر انھوں نے نہیں دیکھا تاہم اس سے اچانک یہ شرعی حکم معلوم ہوگیا کہ چار دیواری کے اندر ایسا کرنا جائز ہے۔ (الموسوعة الحديثية: 8؍616)

(2)
علامہ وحید الزمان نے فرمایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبلے کی طرف منہ کرنے اور پیٹھ کرنے کی احادیث بھی مروی ہیں اور ان سے ممانعت کی احادیث بھی موجود ہیں۔
ان میں تطبیق دو طرح ہوسکتی ہے۔
ایک تو یہ کہ نہی تحریمی ہے لیکن ممانعت صرف صحراء اور کھلی جگہ میں ہے عمارت میں جائز ہے۔
دوسری صورت یہ ہےکہ نہی کو تنزیہی قرار دیا جائے تو اجتناب افضل ہوگا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے جواز ثابت ہوگا۔ (ترجمہ سنن ابن ماجہ از علامہ وحید الزمان۔
۔
۔
۔
۔
بتصرف)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 323]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 323M
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی عبیداللہ بن موسیٰ اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 323M]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبيد الله بن موسى العبسي، أبو محمدثقة يتشيع
👤←👥محمد بن إدريس الحنظلي، أبو حاتم
Newمحمد بن إدريس الحنظلي ← عبيد الله بن موسى العبسي
أحد الحفاظ
Sunan Ibn Majah Hadith 323 in Urdu