🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب : الضب
باب: ضب (صحرائے نجد میں پائے جانے والے گوہ) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3238
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَ النَّاسُ ضِبَابًا، فَاشْتَوَوْهَا فَأَكَلُوا مِنْهَا، فَأَصَبْتُ مِنْهَا ضَبًّا فَشَوَيْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ جَرِيدَةً فَجَعَلَ يَعُدُّ بِهَا أَصَابِعَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ فِي الْأَرْضِ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلَّهَا هِيَ"، فَقُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اشْتَوَوْهَا فَأَكَلُوهَا، فَلَمْ يَأْكُلْ وَلَمْ يَنْهَ.
ثابت بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں نے ضب (گوہ) پکڑے اور انہیں بھونا، اور اس میں سے کھایا، میں نے بھی ایک گوہ پکڑی اور اسے بھون کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی لی، اور اس کے ذریعہ اس کی انگلیاں شمار کرنے لگے اور فرمایا: بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ ہو کر زمین میں کا ایک جانور بن گیا، اور میں نہیں جانتا شاید وہ یہی ہو، میں نے عرض کیا: لوگ اسے بھون کر کھا بھی گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو اسے کھایا اور نہ ہی (اس کے کھانے سے) منع کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3238]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأطعمة 28 (3795)، سنن النسائی/الصید والذبائح 26 (4325)، (تحفة الأشراف: 2069)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/220)، سنن الدارمی/الصید 8 (2059) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ثابت بن وديعة الأنصاري، أبو سعيدصحابي
👤←👥زيد بن وهب الجهني، أبو سليمان
Newزيد بن وهب الجهني ← ثابت بن وديعة الأنصاري
ثقة
👤←👥الحصين بن عبد الرحمن السلمي، أبو الهذيل
Newالحصين بن عبد الرحمن السلمي ← زيد بن وهب الجهني
ثقة متقن
👤←👥محمد بن الفضيل الضبي، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن الفضيل الضبي ← الحصين بن عبد الرحمن السلمي
صدوق عارف رمي بالتشيع
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن الفضيل الضبي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3795
أمة من بني إسرائيل مسخت دواب في الأرض لم يأكل ولم ينه
سنن ابن ماجه
3238
أمة من بني إسرائيل مسخت دواب في الأرض لم يأكل ولم ينه
سنن النسائى الصغرى
4325
أمة من بني إسرائيل مسخت دواب في الأرض ما أمر بأكلها ولا نهى
سنن النسائى الصغرى
4326
أمة مسخت لا يدرى ما فعلت وإني لا أدري لعل هذا منها
المعجم الصغير للطبراني
622
عن الضب ، فقال : أمة مسخت والله أعلم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3238 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3238
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  «ضب» کا ترجمہ سانڈا بھی کیا گیا ہے اور گوہ بھی۔
ضب کےبارے میں علماء نے جو کچھ بیان کیا ہے اس میں سے یہ بھی ہے کہ اس کی دم بہت گرہ دار ہوتی ہے۔ (حاشہ سنن ابن ماجہ۔
محمد فواد عبدالباقی)
اور یہ جانور پانی نہیں پیتا اس لیے عرب میں اگر کوئی شخص یہ کہنا چاہے کہ میں فلاں کام کبھی نہیں کروں گا تو وہ یہ محاورہ بولتا ہے:
لاأفعل كذا حتى يرد الضب میں یہ کام نہیں کروں گا حتی کہ ضب پانی پینے آئے۔
کیونکہ ضب پانی نہیں پیتا بلکہ اسے ٹھنڈی ہواکی نمی کافی ہوتی ہے۔ (فتح الباری: 9/820)
 اس وضاحت کی روشنی میں ضب کا ترجمہ سانڈا زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔
واللہ اعلم۔

(2)
  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے:
اللہ تعالیٰ نے مسخ شدہ لوگوں کی نسل نہیں چلائی۔ (صحیح مسلم، القدر، باب ان الآجال والأرزاق وغیرھا لاتزید ولاتنقص عما سبق به القدر، حديث: 2663)
ممكن ہے زیر مطالعہ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سانڈے کےبارے میں اظہار خیال وحی کے ذریعے سے یہ قانون معلوم ہونے سے پہلے کا ہو۔

(3)
اس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گو اپنی طبعی کراہت کی وجہ سے اسے کھانا پسند نہیں فرمایا لیکن آپ نے صحابہ کواس کے کھانے سے منع بھی نہیں فرمایا چنانچہ جسے پسند ہو وہ کھالے جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر اسے کھایا گیا ہے اور جسے پسند نہ ہو وہ نہ کھائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3238]