سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب : التسمية عند الطعام
باب: کھانے کے وقت بسم اللہ کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3264
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ طَعَامًا فِي سِتَّةِ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا أَنَّهُ لَوْ كَانَ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ لَكَفَاكُمْ، فَإِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا , فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ، فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يَقُولَ: بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ، فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چھ صحابہ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) آیا، اور اس نے اسے دو لقموں میں کھا لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو، اگر یہ شخص «بسم الله» کہہ لیتا، تو یہی کھانا تم سب کے لیے کافی ہوتا، لہٰذا تم میں سے جب کوئی کھانا کھائے تو چاہیئے کہ وہ ( «بسم الله») کہے، اگر وہ شروع میں ( «بسم الله») کہنا بھول جائے تو یوں کہے: «بسم الله في أوله وآخره» “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3264]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چھ اصحاب کے ہمراہ کھانا تناول فرما رہے تھے۔ ایک اعرابی (بدو) آیا، وہ (سارا کھانا) دو لقموں میں کھا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ شخص بسم اللہ پڑھ لیتا تو کھانا تمہارے لیے کافی ہو جاتا، چنانچہ تم میں سے جو شخص کھانا کھائے اسے چاہیے کہ بسم اللہ پڑھ لے۔ اگر شروع میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو (یاد آنے پر) یوں کہہ لے: «بِسْمِ اللّٰهِ فِيْ أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ (کھانا شروع کرتا ہوں) اس کے شروع اور اس کے آخر میں۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3264]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16267، ومصباح الزجاجة: 1122)، وقد أخر جہ: سنن ابی داود/الأطعمة 16 (3767)، سنن الترمذی/الأطعمة 47 (1858)، مسند احمد (6/143، 207، 246، 265)، سنن الدارمی/الأطعمة 1 (2063) (صحیح)» (عبد بن عبید بن عمیر اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان سند میں انقطاع ہے، لیکن حدیث امیہ بن مخشی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1965)
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ تعالی کا نام لیتا ہوں شروع اور اخیر دونوں میں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1858
| لو سمى لكفاكم |
سنن ابن ماجه |
3264
| لو كان قال بسم الله لكفاكم إذا أكل أحدكم طعاما فليقل بسم الله فإن نسي أن يقول بسم الله في أوله فليقل بسم الله في أوله وآخره |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3264 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3264
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بسم اللہ پڑھنے سے کھانے میں برکت ہوتی ہے اور تھوڑا کھانا زیادہ لوگوں کو کافی ہو جاتا ہے۔
(2)
اگر چند افراد مل کر ایک برتن میں کھانا کھا رہے ہوں تو سب کو بسم اللہ پڑھنی چاہیے۔
اگر ایک آدمی بھی بغیر بسم اللہ کے کھانے لگے تو برکت ختم ہو جاتی ہے۔
(3)
کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھنی چاہیے یاد نہ رہے تو یاد آنے پر (بسم الله اوله وآخره)
يا (بسم الله فى أوله وآخره)
پڑھ لے۔
فوائد و مسائل:
(1)
بسم اللہ پڑھنے سے کھانے میں برکت ہوتی ہے اور تھوڑا کھانا زیادہ لوگوں کو کافی ہو جاتا ہے۔
(2)
اگر چند افراد مل کر ایک برتن میں کھانا کھا رہے ہوں تو سب کو بسم اللہ پڑھنی چاہیے۔
اگر ایک آدمی بھی بغیر بسم اللہ کے کھانے لگے تو برکت ختم ہو جاتی ہے۔
(3)
کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھنی چاہیے یاد نہ رہے تو یاد آنے پر (بسم الله اوله وآخره)
يا (بسم الله فى أوله وآخره)
پڑھ لے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3264]
Sunan Ibn Majah Hadith 3264 in Urdu
عبد الله بن عبيد الليثي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق