سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب : الأكل على الخوان والسفرة
باب: میز اور دستر خوان پر کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3292
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ الْإِسْكَافِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ، وَلَا فِي سُكُرُّجَةٍ، قَالَ: فَعَلَامَ كَانُوا يَأْكُلُونَ؟ قَالَ: عَلَى السُّفَرِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوان (میز) پر کبھی نہیں کھایا، اور نہ «سکرجہ» (چھوٹی طشتری) ۱؎ میں کھایا۔ قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز پر کھاتے تھے؟ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: دستر خوان پر۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3292]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میز پر رکھ کر کھانا نہیں کھایا، اور نہ طشتری اور تھالی میں۔“ قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: ”پھر لوگ کس چیز پر رکھ کر کھانا کھاتے تھے؟“ انہوں نے فرمایا: ”دستر خوان پر۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3292]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأطعمة 8 (5386)، 23 (5415)، سنن الترمذی/الأطعمة 1 (1788)، (تحفة الأشراف: 1444)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/130) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «سکرجہ» (چھوٹی طشتری) میں چٹنی اور کھٹائی وغیرہ رکھی جاتی ہے جس سے کھانے کی خواہش بڑھتی ہے یہ عیش پسندوں کا طریقہ ہے آپ کو یہ چیز پسند نہیں تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5415
| ما أكل النبي على خوان لا في سكرجة لا خبز له مرقق |
جامع الترمذي |
1788
| ما أكل رسول الله على خوان لا في سكرجة لا خبز له مرقق |
سنن ابن ماجه |
3292
| ما أكل النبي على خوان لا في سكرجة علام كانوا يأكلون قال على السفر |
سنن ابن ماجه |
3293
| ما رأيت رسول الله أكل على خوان حتى مات |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3292 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3292
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مولانا عبدالغنی رحمہ اللہ سنن ابن ماجہ کے حاشہ انجاح الحاجہ میں خوان کے بارے میں لکھتے ہیں:
اس پر رکھ کر کھانا دولت مندوں اور متکبروں کی عادت ہے تاکہ انہیں کھانا کھاتے وقت جھکنے یا سر جھکانے کی ضرورت نہ پڑے۔
اس لیے اس کا ترجمہ چھوٹی میز یا تپائی وغیرہ کیا جا سکتا ہے۔
(2)
سکرجه چھوٹی پلیٹ یا تھالی اور رکابی وغیرہ کو کہتے ہیں جس میں چٹنی وغیرہ رکھی جاتی ہے۔
یہ لذت پسندی اور عیش پرستی کامظہر ہے۔
رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانا سادہ اور زود ہضم ہوتا تھا اس لیے چٹنی وغیرہ کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی۔
(3)
سفرہ (دستر خوان)
سے مراد وہ کپڑے یا چمڑے کا ٹکڑا ہے جسے بچھا کر اس پر کھانا رکھا جاتا ہے۔
اہل عرب اب بھی میز کرسی استعمال کرنے کے بجائے زمین پر دستر خوان بچھا کر کھانا کھانے کے عادی ہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
مولانا عبدالغنی رحمہ اللہ سنن ابن ماجہ کے حاشہ انجاح الحاجہ میں خوان کے بارے میں لکھتے ہیں:
اس پر رکھ کر کھانا دولت مندوں اور متکبروں کی عادت ہے تاکہ انہیں کھانا کھاتے وقت جھکنے یا سر جھکانے کی ضرورت نہ پڑے۔
اس لیے اس کا ترجمہ چھوٹی میز یا تپائی وغیرہ کیا جا سکتا ہے۔
(2)
سکرجه چھوٹی پلیٹ یا تھالی اور رکابی وغیرہ کو کہتے ہیں جس میں چٹنی وغیرہ رکھی جاتی ہے۔
یہ لذت پسندی اور عیش پرستی کامظہر ہے۔
رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانا سادہ اور زود ہضم ہوتا تھا اس لیے چٹنی وغیرہ کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی۔
(3)
سفرہ (دستر خوان)
سے مراد وہ کپڑے یا چمڑے کا ٹکڑا ہے جسے بچھا کر اس پر کھانا رکھا جاتا ہے۔
اہل عرب اب بھی میز کرسی استعمال کرنے کے بجائے زمین پر دستر خوان بچھا کر کھانا کھانے کے عادی ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3292]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5415
5415. سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو میز پر رکھ کر کھانا کھایا اور نہ چھوٹی چھوٹی پیالوں کو کھانے میں استعال کیا اور نہ آپ کے لیے باریک چپاتی ہی پکائی گئی۔ (راوی حدیث کہتے ہیں کہ) میں نے قتادہ سے پوچھا کہ پھر وہ کس چیز پر رکھ کر کھانا کھاتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ چمڑے کے دستر خوان پر کھانا رکھ کر اسے تناول فرماتے تھے [صحيح بخاري، حديث نمبر:5415]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیوی معیشت کا پتا چلتا ہے کہ آپ کی خوراک بالکل سادہ تھی۔
اس میں اہل دنیا کی طرح تکلف نہیں ہوا کرتا تھا۔
لیکن ہمارے ہاں ایسی پرتکلف دعوتوں کا رواج چل نکلا ہے جن میں فضول خرچی کے علاوہ شہرت اور دکھلاوے کے جذبات نمایاں ہوتے ہیں۔w
اس حدیث سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیوی معیشت کا پتا چلتا ہے کہ آپ کی خوراک بالکل سادہ تھی۔
اس میں اہل دنیا کی طرح تکلف نہیں ہوا کرتا تھا۔
لیکن ہمارے ہاں ایسی پرتکلف دعوتوں کا رواج چل نکلا ہے جن میں فضول خرچی کے علاوہ شہرت اور دکھلاوے کے جذبات نمایاں ہوتے ہیں۔w
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5415]
Sunan Ibn Majah Hadith 3292 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري