🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب : تفتيش التمر
باب: اچھی اچھی کھجوریں تلاش کر کے کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3333
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ , عَنْ هَمَّامٍ , عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أُتِيَ بِتَمْرٍ عَتِيقٍ , فَجَعَلَ يُفَتِّشُهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے پاس پرانی کھجوریں لائی گئیں، تو آپ اس میں سے اچھی کھجوریں چھانٹنے لگے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3333]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پرانی کھجوریں پیش کی گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو (اندر سے) صاف کرنے لگے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3333]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأطعمة 43 (3832، 3833)، (تحفة الأشراف: 215) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اس میں سے اچھی اچھی کھجوریں نکال کر کھاتے تھے، ابوداود کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کیڑے سسریاں نکالتے تھے، دوسری روایت میں کھجور چھانٹنے سے منع فرمایا، اور یہ محمول ہے اس حالت پر جب نئی کھجور ہو تو اس وقت چھانٹنے کی ضرورت نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥إسحاق بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو نجيح
Newإسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة حجة
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهمام بن يحيى العوذي ← إسحاق بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥سلم بن قتيبة الشعيري، أبو قتيبة
Newسلم بن قتيبة الشعيري ← همام بن يحيى العوذي
ثقة
👤←👥بكر بن خلف البصري، أبو بشر
Newبكر بن خلف البصري ← سلم بن قتيبة الشعيري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3832
أتي النبي بتمر عتيق فجعل يفتشه يخرج السوس منه
سنن ابن ماجه
3333
أتي بتمر عتيق فجعل يفتشه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3333 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3333
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  تحفہ قبول کرنا چاہیے اگرچہ بظاہروہ حقیر سا ہو۔

(2)
کھانے کی ادنی چیز بھی اللہ کی نعمت ہے لہٰذا اس کی قدر کرنی چاہیے۔

(3)
اگر خراب چیز کو ٹھیک کرکے استعمال کیا جا سکتا ہو تو اسے ضائع کرنے کی بجائے کھا لینا چاہیے۔

(4)
پھل کا کچھ حصہ خراب ہو تو اسے پھینکنے کی بجائے خراب حصہ الگ کرکے صحیح حصہ استعمال کر لینا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3333]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3832
کھاتے وقت کھجور سے کیڑے تلاش کرنا اور نکالنے کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ پرانے کھجور لائے گئے تو آپ اس میں سے چن چن کر کیڑے (سرسریاں) نکالنے لگے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3832]
فوائد ومسائل:
فائدہ: سوس پہلے سین پر زبر پڑھیں۔
تو یہ مصدر ہوگا۔
اس سے مراد کھجور یا غلے کا وہ دانہ ہوگا۔
جس میں کیڑا وغیرہ لگ گیا ہو۔
اگر پہلے سین پر پیش پڑھیں۔
تو خود کیڑا یا سرسری مراد ہوگی۔
مطلب یہ کہ کیڑا وغیرہ لگنے سے کھجور یا غلہ نجس نہیں ہوجاتا۔
اور جہاں تک ہوسکے صاف کرکے استعمال کر لینا چاہیے۔
اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تواضع کا بھی بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں نخوت نہ تھی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3832]

Sunan Ibn Majah Hadith 3333 in Urdu