🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. بَابُ : التَّمْرِ بِالزُّبْدِ
باب: مکھن کے ساتھ کھجور کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3334
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ , حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ , عَنْ ابْنَيْ بُسْرٍ السُّلَمِيَّيْنِ , قَالَا:" دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْنَا تَحْتَهُ قَطِيفَةً , لَنَا صَبَبْنَاهَا لَهُ صَبًّا , فَجَلَسَ عَلَيْهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الْوَحْيَ فِي بَيْتِنَا، وَقَدَّمْنَا لَهُ زُبْدًا وَتَمْرًا , وَكَانَ يُحِبُّ الزُّبْدَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
بسر سلمی کے دو بیٹے (رضی اللہ عنہما) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ کے نیچے اپنی ایک چادر بچھائی جسے ہم نے پانی ڈال کر ٹھنڈا کر رکھا تھا، آپ اس پر بیٹھ گئے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے گھر میں آپ پر وحی نازل فرمائی، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مکھن اور کھجور پیش کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکھن پسند فرماتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3334]
حضرت عبداللہ بن بسر سلمی رضی اللہ عنہ اور حضرت عطیہ بن بسر سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھنے کے لیے (زمین پر) ایک چادر ڈال دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھ گئے۔ تب ہمارے گھر میں اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی فرمائی۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مکھن اور خشک کھجوریں پیش کیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکھن بہت پسند تھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کی رحمتیں ہوں اور سلام ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3334]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 519، ومصباح الزجاجة: 1150)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأطعمة 45 (3837) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
7391

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عطية بن بسر السلميمختلف في صحبته
👤←👥عبد الله بن بسر النصري، أبو صفوان، أبو بسر
Newعبد الله بن بسر النصري ← عطية بن بسر السلمي
صحابي
👤←👥سليم بن عامر الكلاعي، أبو يحيى
Newسليم بن عامر الكلاعي ← عبد الله بن بسر النصري
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن يزيد الأزدي، أبو عتبة
Newعبد الرحمن بن يزيد الأزدي ← سليم بن عامر الكلاعي
ثقة
👤←👥صدقة بن خالد القرشي، أبو العباس
Newصدقة بن خالد القرشي ← عبد الرحمن بن يزيد الأزدي
ثقة
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← صدقة بن خالد القرشي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3334
وضعنا تحته قطيفة لنا صببناها له صبا فجلس عليها أنزل الله عليه الوحي في بيتنا قدمنا له زبدا وتمرا وكان يحب الزبد
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3334 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3334
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عالم یا بڑے آدمی کو اپنے ساتھیوں کے حالات سے براہ راست باخبر رہنا چاہیے۔

(2)
  افسر اور ماتحتوں میں بے تکلفی کے تعلقات جائز ہیں بشرطیکہ ان سے ناجائز فوائد اٹھانے سے پرہیز کیا جائے۔

(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکلفات کو اہمیت نہیں دیتے تھے اس لیے زمین پر چادر ڈال دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی پر بیٹھ گئے نہ چار پائی طلب کی اور نہ چادر کو خوبصورت انداز میں بچھانے کا تکلف کیا۔

(4)
مکھن ایک عمدہ اور مقوی غذا ہے او رکھجور بھی اچھی غذا ہے۔
دونوں کو ملا کر کھانے سے ان کے فائدے میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

(5)
عمدہ غذا سے اجتناب زہد نہیں بلکہ حرام رزق سے اور فخر و تکبر سے بچنا زہد ہے۔

(6)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر سادہ غذا استعمال فرماتے تھے۔
کبھی عمدہ چیز مل جاتی تواسے بھی تناول فرمالیتے۔
عمدہ کی حرص نہ کرنا ہی خوبی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3334]

Sunan Ibn Majah Hadith 3334 in Urdu