سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : الخمر مفتاح كل شر
باب: شراب ہر برائی کی کنجی ہے۔
حدیث نمبر: 3371
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ , حَدَّثَنَا بْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ جَمِيعًا , عَنْ رَاشِدٍ أَبِي مُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيِّ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا تَشْرَبْ الْخَمْرَ , فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ".
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل (جگری دوست) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی: ”شراب مت پیو، اس لیے کہ یہ تمام برائیوں کی کنجی ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3371]
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”شراب نہ پینا کیونکہ وہ ہر برائی کی کنجی ہے۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3371]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10985، ومصباح الزجاجة: 1168) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آدمی ہر ایک برائی سے عقل کی وجہ سے بچتا ہے جب عقل ہوتی ہے تو اللہ کا خوف ہوتا ہے، شراب پینے سے عقل ہی میں فتور آ جاتا ہے، پھر خوف کہاں رہا شرابی سے سینکڑوں گناہ سرزد ہوتے ہیں، اس لئے اس کو ام الخبائث کہتے ہیں، یعنی سب برائیوں کی جڑ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3371
| لا تشرب الخمر فإنها مفتاح كل شر |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3371 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3371
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
خمر (شراب)
سےمراد ہر نشہ آور چیز ہے۔ (سنن ابن ماجة، حدیث: 3390)
(2)
شراب کی حرمت قرآن مجید سے ثابت ہے۔
قرآن مجید میں اسےحرام اور شیطانى کام فرمایا گیا ہے۔ (المائدۃ 5: 90)
(3)
عقل اللہ کی ایسی عظیم نعمت ہے جس سے انسان دنیا اورآخرت کی ہر بھلائی کے حصول کے لیے کوشش کر سکتا ہے۔
جان بوجھ کر اس نعمت سے محروم ہونے کی کوشش کرنا بہت بڑی ناشکری ہے۔
(4)
انسان عقل کے ذریعے سے ہرگناہ اور نقصان دہ چیز اور عمل سے بچتا ہے۔
نشہ استعمال کرنے کےبعد اسے اپنے بھلے برے کی تمیز نہیں رہتی۔
اس صورت میں وہ ہر گناہ کا ارتکاب کر سکتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
خمر (شراب)
سےمراد ہر نشہ آور چیز ہے۔ (سنن ابن ماجة، حدیث: 3390)
(2)
شراب کی حرمت قرآن مجید سے ثابت ہے۔
قرآن مجید میں اسےحرام اور شیطانى کام فرمایا گیا ہے۔ (المائدۃ 5: 90)
(3)
عقل اللہ کی ایسی عظیم نعمت ہے جس سے انسان دنیا اورآخرت کی ہر بھلائی کے حصول کے لیے کوشش کر سکتا ہے۔
جان بوجھ کر اس نعمت سے محروم ہونے کی کوشش کرنا بہت بڑی ناشکری ہے۔
(4)
انسان عقل کے ذریعے سے ہرگناہ اور نقصان دہ چیز اور عمل سے بچتا ہے۔
نشہ استعمال کرنے کےبعد اسے اپنے بھلے برے کی تمیز نہیں رہتی۔
اس صورت میں وہ ہر گناہ کا ارتکاب کر سکتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3371]
Sunan Ibn Majah Hadith 3371 in Urdu
هجيمة بنت حيي الأوصابية ← عويمر بن مالك الأنصاري