علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب : الشرب بالأكف والكرع
باب: پانی چلو سے پینے اور منہ لگا کر پینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3431
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْرَبَ عَلَى بُطُونِنَا وَهُوَ الْكَرْعُ , وَنَهَانَا أَنْ نَغْتَرِفَ بِالْيَدِ الْوَاحِدَةِ , وَقَالَ:" لَا يَلَغْ أَحَدُكُمْ كَمَا يَلَغُ الْكَلْبُ , وَلَا يَشْرَبْ بِالْيَدِ الْوَاحِدَةِ كَمَا يَشْرَبُ الْقَوْمُ الَّذِينَ سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ , وَلَا يَشْرَبْ بِاللَّيْلِ مِنْ إِنَاءٍ حَتَّى يُحَرِّكَهُ , إِلَّا أَنْ يَكُونَ إِنَاءً مُخَمَّرًا , وَمَنْ شَرِبَ بِيَدِهِ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَى إِنَاءٍ يُرِيدُ التَّوَاضُعَ , كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِعَدَدِ أَصَابِعِهِ حَسَنَاتٍ , وَهُوَ إِنَاءُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَام إِذْ طَرَحَ الْقَدَحَ , فَقَالَ , أُفٍّ هَذَا مَعَ الدُّنْيَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اوندھے منہ پیٹ کے بل لیٹ کر پینے سے منع فرمایا ہے، اور یہی «کرع» ہے، اور ہمیں اس بات سے بھی منع فرمایا کہ ایک ہاتھ سے چلو لیں، اور ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی کتے کی طرح برتن میں منہ نہ ڈالے، اور نہ ایک ہاتھ سے پئے، جیسا کہ وہ لوگ پیا کرتے تھے جن سے اللہ ناراض ہوا، رات میں برتن کو ہلائے بغیر اس میں سے نہ پئے مگر یہ کہ وہ ڈھکا ہوا ہو، اور جو شخص محض عاجزی و انکساری کی وجہ سے اپنے ہاتھ سے پانی پیتا ہے حالانکہ وہ برتن سے پینے کی استطاعت رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی انگلیوں کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھتا ہے، یہی عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا برتن تھا جب انہوں نے یہ کہہ کر پیالہ پھینک دیا: اف! یہ بھی دنیا کا سامان ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3431]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیٹ کے بل (لیٹ کر) پانی پینے سے منع فرمایا ہے، اسی کو «الْكَرَعُ» کہتے ہیں۔ اور ہمیں ایک ہاتھ سے چلو میں پانی لینے سے منع کیا ہے اور فرمایا: ”کوئی شخص اس طرح زبان نکال کر پانی نہ پیے، جس طرح کتا زبان سے پانی پیتا ہے، نہ اس طرح ایک ہاتھ سے پانی پیے، جس طرح وہ لوگ پیتے ہیں جن سے اللہ ناراض ہے، اور نہ رات کو کسی برتن میں پانی پیے جب تک اسے حرکت نہ دے لے، سوائے اس کے کہ برتن ڈھکا ہوا ہو۔ اور جو شخص انکسار کی نیت سے ہاتھ سے (چلو بھر کر) پانی پیتا ہے، حالانکہ اسے برتن مل سکتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی انگلیوں کی تعداد کے مطابق نیکیاں لکھ دیتا ہے۔ یہ (ہاتھوں کی لپ) عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا برتن تھا۔ جب انہوں نے یہ کہہ کر پیالہ پھینک دیا تھا: اف! یہ بھی دنیا کا سامان ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3431]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7433، ومصباح الزجاجة: 1187) (ضعیف)» (سند میں بقیہ بن ولید مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز مسلم بن عبد اللہ مجہول راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
زياد: مجهول (تقريب: 2088) وبقية عنعن
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
إسناده ضعيف
زياد: مجهول (تقريب: 2088) وبقية عنعن
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3431
| لا يلغ أحدكم كما يلغ الكلب لا يشرب باليد الواحدة كما يشرب القوم الذين سخط الله عليهم لا يشرب بالليل من إناء حتى يحركه إلا أن يكون إناء مخمرا من شرب بيده وهو يقدر على إناء يريد التواضع كتب الله له بعدد أصابعه حسنات وهو إناء عيسى ابن مريم عليهما السلا |
Sunan Ibn Majah Hadith 3431 in Urdu
محمد بن زيد القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي