🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب : السنا والسنوت
باب: سنا اور سنوت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3457
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ سَرْحٍ الْفِرْيَابِيُّ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُبَيِّ بْنَ أُمِّ حَرَامٍ , وَكَانَ قَدْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَتَيْنِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" عَلَيْكُمْ بِالسَّنَى وَالسَّنُّوتِ , فَإِنَّ فِيهِمَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ , إِلَّا السَّامَ" , قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: وَمَا السَّامُ؟ قَالَ:" الْمَوْتُ" , قَالَ عَمْرٌو: قَالَ ابْنُ أَبِي عَبْلَةَ: السَّنُّوتُ: الشِّبِتُّ , وقَالَ آخَرُونَ: بَلْ هُوَ الْعَسَلُ الَّذِي يَكُونُ فِي زِقَاقِ السَّمْنِ , وَهُوَ قَوْلُ الشَّاعِرِ: هُمُ السَّمْنُ بِالسَّنُّوتِ لَا أَلْسَ فِيهِمْ وَهُمْ يَمْنَعُونَ جَارَهُمْ أَنْ يُقَرَّدَا.
ابو ابی بن ام حرام رضی اللہ عنہا (وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھ چکے ہیں) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: «تمسنا» اور «سنوت» ۱؎ کا استعمال لازم کر لو، اس لیے کہ «سام» کے سوا ان میں ہر مرض کے لیے شفاء ہے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! «سام» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت۔ عمرو کہتے ہیں کہ ابن ابی عبلہ نے کہا: «سنوت»: «سویے» کو کہتے ہیں، بعض دوسرے لوگوں نے کہا ہے کہ وہ شہد ہے جو گھی کی مشکوں میں ہوتا ہے، شاعر کا یہ شعر اسی معنی میں وارد ہے۔ «هم السمن بالسنوت لا ألس فيهم وهم يمنعون جارهم أن يقردا» وہ لوگ ملے ہوئے گھی اور شہد کی طرح ہیں ان میں خیانت نہیں، اور وہ لوگ تو اپنے پڑوسی کو بھی دھوکا دینے سے منع کرتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3457]
حضرت ابو ابی عبداللہ بن ام حرام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے، انہوں نے بیان کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «السَّنَا وَالسَّنُّوتُ» سنا اور سنوت اپناؤ، ان میں «السَّامُ» سام کے سوا ہر بیماری سے شفا ہے۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! سام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْمَوْتُ» موت۔ ابن ابی عبلہ رحمہ اللہ نے فرمایا: سنوت سے مراد شبت (خوشبودار پتے جو کھانے میں ڈالے جاتے ہیں) ہے۔ دوسرے حضرات کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ شہد ہے جو گھی کی مشکوں میں رکھا گیا ہو۔ ایک شاعر کا شعر ہے: وہ لوگ شہد ملے گھی کی طرح ہیں، وہ خیانت نہیں کرتے (یا آپس میں نہیں لڑتے) اور اپنے ہمسائے کی حفاظت کرتے ہیں تاکہ اسے دھوکا نہ دیا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11858، ومصباح الزجاجة: 1204) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «سنا» : ایک مسہل (دست لانے والی) دو ا کا نام ہے، اور «سنوت» : سویا یا بعض لوگوں کے بقول شہد کو کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن كعب الأنصاري، أبو أبيصحابي
👤←👥إبراهيم بن أبي عبلة العقيلي، أبو العباس، أبو إسحاق، أبو سعيد، أبو إسماعيل
Newإبراهيم بن أبي عبلة العقيلي ← عبد الله بن كعب الأنصاري
ثقة
👤←👥عمرو بن بكر السكسكي
Newعمرو بن بكر السكسكي ← إبراهيم بن أبي عبلة العقيلي
منكر الحديث
👤←👥إبراهيم بن محمد المقدسي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن محمد المقدسي ← عمرو بن بكر السكسكي
صدوق يخطئ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3457
عليكم بالسنى والسنوت فإن فيهما شفاء من كل داء إلا السام قيل يا رسول الله وما السام قال الموت
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3457 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3457
اردو حاشہ:
نواب وحید الزمان خاں نے سنوت کاترجمہ سویہ کیا ہے یہ ایک پورا ہے بعض لوگ اسے ساگ میں شامل کرتے ہیں۔
جب کہ اس روایت میں اس کا مطلب شہد بتایا گیا ہے۔ 2۔
سنامکی بھی ایک پوداہے۔
جس کی پتی دست آور ہوتی ہے۔ 3۔
نباتات سے علاج بہتر طریقہ ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3457]

Sunan Ibn Majah Hadith 3457 in Urdu