سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ : الْكَمْأَةِ وَالْعَجْوَةِ
باب: کھمبی اور عجوہ کھجور کا بیان۔
حدیث نمبر: 3456
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا الْمُشْمَعِلُّ بْنُ إِيَاسٍ الْمُزَنِيُّ , حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" الْعَجْوَةُ وَالصَّخْرَةُ مِنَ الْجَنَّةِ" , قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: حَفِظْتُ الصَّخْرَةَ مِنْ فِيهِ.
رافع بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”عجوہ کھجور اور صخرہ یعنی بیت المقدس کا پتھر جنت کی چیزیں ہیں“۔ عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں: لفظ «صخرہ» میں نے ان کے منہ سے سن کر یاد کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3456]
حضرت رافع بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد سنا: ”عجوہ اور صخرہ جنت سے (آئے) ہیں۔“ حضرت عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے کہا: ”میں نے صخرہ کا لفظ خود اپنے استاد (مشمعل بن ایاس مزنی رضی اللہ عنہ) کے منہ سے سنا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3456]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3598، ومصباح الزجاجة: 1203)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/426، 5/31، 65) (ضعیف)» (مشعمل نے کبھی «الصخرة» کہا اور کبھی «الشجرہ» اس اضطراب کی وجہ سے یہ ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥رافع بن عمرو المزني | صحابي | |
👤←👥عمرو بن سليم المزني عمرو بن سليم المزني ← رافع بن عمرو المزني | ثقة | |
👤←👥المشمعل بن إياس المزني المشمعل بن إياس المزني ← عمرو بن سليم المزني | ثقة | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← المشمعل بن إياس المزني | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3456
| العجوة والصخرة من الجنة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3456 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3456
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً صحیح اور قابل حجت قراردیا ہے۔
اور دیگر محققین نے بھی اس کی سند کو تو صحیح قرار دیا ہے۔
البتہ متن میں اضطراب کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ حدیث کے راوی مشمعل روایت بیان کرتے ہوئے کبھی تو صخرہ کا لفظ بولتے ہیں اور کبھی شجرۃ کا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ راوی کو صحیح الفاظ یاد نہیں۔
اور یہ ایسا تردد اور شک ہے جو اضطراب کہلاتاہے۔
اور حدیث کےضعیف اور ناقابل حجت ہونے پر دلالت کرتاہے۔
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً صحیح ہونے کے باوجود قابل عمل اور قابل حجت نہیں۔
تاہم عجوہ کے جنت سےہونے کا ذکردوسری صحیح احادیث سے ملتا ہے۔
مذید تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (سنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد رقم 3456 وإرواء الغلیل للأبانی رقم 2696)
(3)
بعض شارحین بیان کرتے ہیں کہ صخرہ سے مراد وہ چٹان ہے۔
جو بیت المقدس کے شہر میں مسجد اقصیٰ میں ہے آج کل اس چٹان پرایک بڑا گنبد بنا ہواہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً صحیح اور قابل حجت قراردیا ہے۔
اور دیگر محققین نے بھی اس کی سند کو تو صحیح قرار دیا ہے۔
البتہ متن میں اضطراب کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ حدیث کے راوی مشمعل روایت بیان کرتے ہوئے کبھی تو صخرہ کا لفظ بولتے ہیں اور کبھی شجرۃ کا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ راوی کو صحیح الفاظ یاد نہیں۔
اور یہ ایسا تردد اور شک ہے جو اضطراب کہلاتاہے۔
اور حدیث کےضعیف اور ناقابل حجت ہونے پر دلالت کرتاہے۔
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً صحیح ہونے کے باوجود قابل عمل اور قابل حجت نہیں۔
تاہم عجوہ کے جنت سےہونے کا ذکردوسری صحیح احادیث سے ملتا ہے۔
مذید تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (سنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد رقم 3456 وإرواء الغلیل للأبانی رقم 2696)
(3)
بعض شارحین بیان کرتے ہیں کہ صخرہ سے مراد وہ چٹان ہے۔
جو بیت المقدس کے شہر میں مسجد اقصیٰ میں ہے آج کل اس چٹان پرایک بڑا گنبد بنا ہواہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3456]
Sunan Ibn Majah Hadith 3456 in Urdu
عمرو بن سليم المزني ← رافع بن عمرو المزني