🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب : من كان يعجبه الفأل ويكره الطيرة
باب: نیک فال لینا اچھا ہے اور بدفالی مکروہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3537
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ , وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوت چھات اور بدشگونی کوئی چیز نہیں، اور میں فال نیک کو پسند کرتا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3537]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 45 (5776)، صحیح مسلم/السلام 34 (2224)، (تحفة الأشراف: 1259)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب 24 (3916)، سنن الترمذی/السیر 47 (1615)، مسند احمد (3/118، 154، 130، 178، 251، 173، 275) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة متقن
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5756
لا عدوى لا طيرة يعجبني الفأل الصالح الكلمة الحسنة
صحيح البخاري
5776
لا عدوى لا طيرة يعجبني الفأل كلمة طيبة
صحيح مسلم
5801
لا عدوى لا طيرة يعجبني الفأل الكلمة الطيبة
صحيح مسلم
5800
لا عدوى لا طيرة يعجبني الفأل الكلمة الحسنة الكلمة الطيبة
جامع الترمذي
1615
لا عدوى لا طيرة أحب الفأل قالوا يا رسول الله وما الفأل قال الكلمة الطيبة
سنن أبي داود
3915
لا عدوى لا طيرة يعجبني الفأل الصالح والفأل الصالح الكلمة الحسنة
سنن ابن ماجه
3537
لا عدوى لا طيرة أحب الفأل الصالح
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3537 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3537
اردو حاشہ:
فوائد  ومسائل:

(1)
اہل عرب کسی کام کے لئے جاتے تو راستے میں بیٹھے ہوئے کسی پرندے یا ہرن وغیرہ کو کنکر مارتے اور وہ دیکھتے کہ وہ کس طرف جاتا ہے۔
اگر وہ دایئں طرف جاتا ہے تو کہتے کام ہوجائے گا۔
اگر بایئں طرف جاتا تو کہتے یہ کام نہیں ہوگا۔
یا اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔
اور کام کئے بغیر واپس ہوجاتے۔

(2)
اس انداز سے فال لیناشرعا منع ہے۔

(3)
ہندسوں اور حرفوں پر انگلی رکھنا، طوطے سے فال نکلوانا اور ااس قسم کے مختلف طریقوں سے فال نکالنا سب منع ہے۔

(4)
جائز فال صرف اس قدر ہے کہ بلا ارادہ کوئی اچھا لفظ کان میں پڑے اور انسان اس کی وجہ یہ امید رکھے کہ اللہ مجھے میرے مقصد میں کامیاب کردے گا۔
اس میں سننے والے کے قصد و ارادے کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3537]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3915
بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، اور نہ بد شگونی کوئی چیز ہے، اور فال نیک سے مجھے خوشی ہوتی ہے اور فال نیک بھلی بات ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3915]
فوائد ومسائل:
نیک فال جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے مو قع پر اہلِ مکہ کے نمائیدہ سہیل بن عمرو کی آمد پر فرمایا تھا، اب تمھارا معاملہ سہل ہو گیا ہے۔
(صحیح البخاري، الشروط، حدیث2732-2731)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3915]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1615
بدشگونی اور بدفالی کا بیان۔
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جانے اور بدفالی و بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۱؎ اور مجھ کو فال نیک پسند ہے، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! فال نیک کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: اچھی بات۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1615]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
چھوت چھات یعنی بیماری خود سے متعدی نہیں ہوتی،
بلکہ یہ سب کچھ اللہ کے حکم اور اس کی بنائی ہوئی تقدیر پرہوتا ہے،
البتہ بیماریوں سے بچنے کے لیے اللہ پر توکل کرتے ہوئے اسباب کو اپنانا مستحب ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1615]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5756
5756. حضرت انس ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: چھوت چھات بے اصل ہے اور بد شگونی کی بھی کوئی حقیقت نہیں، مجھے تو اچھی فال پسند ہے۔ یعنی کوئی کلمہ خیر یا اچھی بات کسی سے سنی جائے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5756]
حدیث حاشیہ:
حافظ صاحب فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بد شگونی کا ذکر آیا توآپ نے فرمایا کہ فَإذا رَأى أحَدُكُمْ ما يَكْرَه فَلْيَقُلْ:
اللَّهُمَّ لا يَأتي بالحَسَناتِ إلا أنتَ، وَلا يَدْفَعُ السَّيِّئاتِ إلا أنْتَ، وَلا حوْلَ وَلا قُوَّةَ إلا بِكَ (فتح)
یعنی اگر تم میں سے کوئی ایسی مکروہ چیز دیکھے تو کہے یا اللہ! تمام بھلائیاں لانے والا تو ہی ہے اور برائیوں کا دفع کرنے والا بھی تیرے سوا کوئی نہیں ہے گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت اور ان کا سر چشمہ اے اللہ! تو ہی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5756]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5776
5776. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: چھوت لگنا کوئی چیز نہیں اور بد شگونی کی بھی کوئی حیثیت نہیں البتہ نیک فال مجھے پسند ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کی: نیک فال کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: کسی سے اچھی بات کہنا یا سننا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5776]
حدیث حاشیہ:
کوئی کلمہ خیر سن پانا جس سے کسی خیر کو مراد لیا جاسکتا ہو یہ نیک فالی ہے جس کی ممانعت نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5776]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5756
5756. حضرت انس ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: چھوت چھات بے اصل ہے اور بد شگونی کی بھی کوئی حقیقت نہیں، مجھے تو اچھی فال پسند ہے۔ یعنی کوئی کلمہ خیر یا اچھی بات کسی سے سنی جائے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5756]
حدیث حاشیہ:
(1)
بدشگونی کو اس لیے بے اصل قرار دیا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کے متعلق بدگمانی پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر اعتماد اٹھ جاتا ہے اور اچھی فال سے اللہ تعالیٰ کے متعلق حسن ظن پیدا ہوتا ہے جس کا ایک مومن کو حکم دیا گیا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی ضرورت کے لیے نکلتے تو آپ کو یہ امر پسند ہوتا تھا کہ آپ يا راشد اور يا نجيح کے الفاظ سنیں۔
(جامع الترمذي، السیر، حدیث: 1616) (2)
اسی طرح بیمار آدمی جب سلامتی اور تندرستی کا سنے تو خوش ہوتا ہے، نیز لڑائی کے لیے جانے والا شخص راستے میں کسی ایسے شخص سے ملے جس کا نام فتح خاں ہو، اس سے اچھی فال لی جا سکتی ہے کہ اس جنگ میں ہماری فتح ہو گی۔
اللہ تعالیٰ نے طبعی طور پر انسان کے دل میں اچھی چیز کی محبت پیدا کی ہے جیسا کہ اچھی چیز دیکھ کر خوشی ہوتی ہے اور صاف پانی دیکھ کر سرور آتا ہے اگرچہ اسے پینے یا استعمال کرنے کی ہمت نہ ہو۔
(3)
بہرحال جائز فال صرف اسی قدر ہے کہ قصد و ارادے کے بغیر کوئی اچھا لفظ کان میں پڑ جائے تو انسان اسے سن کر اللہ تعالیٰ سے اچھی امید وابستہ کرے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5756]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5776
5776. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: چھوت لگنا کوئی چیز نہیں اور بد شگونی کی بھی کوئی حیثیت نہیں البتہ نیک فال مجھے پسند ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کی: نیک فال کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: کسی سے اچھی بات کہنا یا سننا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5776]
حدیث حاشیہ:
شریعت نے مطلق طور پر متعدی امراض کی نفی کی ہے اگرچہ اطباء حضرات اسے نہیں مانتے، بلکہ اس کی عقلی طور پر مختلف توجیہیں کرتے ہیں کہ بیماری جراثیم کے ذریعے سے پھیلتی ہے لیکن یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ جراثیم کا اثر بھی اس وقت ہوتا ہے جب جسم میں موجود قوت مدافعت کمزور ہو جاتی ہے، گویا اصل سبب جراثیم کا وجود نہیں بلکہ جسم کے حفاظتی نظام کی کمزوری ہے۔
یہ حضرات کان کو الٹی جانب سے پکڑتے ہیں۔
خاموشی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی حقیقت کو تسلیم کریں اور اسے اپنے دل میں جگہ دیں۔
اسی میں عافیت ہے۔
واللہ المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5776]