🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب : لبس الصوف
باب: اونی کپڑا پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3562
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى , عَنْ شَيْبَانَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ لِي: يَا بُنَيَّ , لَوْ شَهِدْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذَا أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ , لَحَسِبْتَ أَنَّ رِيحَنَا رِيحُ الضَّأْنِ".
ابوبردہ اپنے والد ابوموسیٰ اشعری سے روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! کاش تم ہم کو اس وقت دیکھتے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم پر آسمان سے بارش ہوتی تو تم خیال کرتے کہ ہماری بو بھیڑ کی بو جیسی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3562]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 6 (4033)، سنن الترمذی/صفة القیامة 38 (2479)، (تحفة الأشراف: 9126)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/407، 419) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیونکہ بالوں کے کپڑے جب بھیگ جاتے ہیں ان میں سے ایسی ہی بو پھوٹ نکلتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4033) ترمذي (2479)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 505

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥أبو بردة بن أبي موسى الأشعري، أبو بردة
Newأبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أبو بردة بن أبي موسى الأشعري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥شيبان بن عبد الرحمن التميمي، أبو معاوية
Newشيبان بن عبد الرحمن التميمي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة
👤←👥الحسن بن موسى الأشيب، أبو علي
Newالحسن بن موسى الأشيب ← شيبان بن عبد الرحمن التميمي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← الحسن بن موسى الأشيب
ثقة حافظ صاحب تصانيف
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3562 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3562
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراد دیا ہے جبکہ دیگرمحققین نے اسے دیگرشواہد اور متابعات کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے اور انھی کی رائے اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
مزید تفصیل کے لئے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 32/ 420، 421 وصحيح سنن ابن ماجة للألبانى، رقم: 2338 وسنن ابن ماجة بتحقيق الدكتور بشار عواد رقم: 3562)
اہل عرب اون کو اس طرح تیار کرنے کے فن سے واقف نہیں تھے جس طرح آج کل تیار کی جاتی ہے کہ اس سے نفیس اور ہموار تار تیار ہو جاتے ہیں بلکہ وہ سادہ انداز سے تیار کیا ہوا موٹا تار ہوتا تھا اور اس سے بننے والا کپڑا بھی موٹا اور کھردرا ہو تا تھا اس لئے سوتی کپڑا نفیس اور قیمتی جبکہ اونی لباس بھدا اور سستا ہوتا تھا۔

(3)
صحابہ کرام نازو نعمت کی پروا نہیں کرتے تھے۔
وہ خود تو معمولی خوراک اور لباس پر اکتفا کرتے جبکہ اللہ کی راہ میں دل کھول کر خرچ کرتے تھے۔

(4)
جب عمدہ لباس کی طاقت نہ ہو تو اونی لباس پر صبر کرنا چاہیے اور اللہ سے شکوہ کرنے کی بجائے دین و ایمان کی حفاظت کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3562]