🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب : بر الوالد والإحسان إلى البنات
باب: باپ کو اپنے بچوں خاص کر بیٹیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3667
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ , سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ , عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ؟ ابْنَتُكَ مَرْدُودَةً إِلَيْكَ لَيْسَ لَهَا كَاسِبٌ غَيْرُكَ".
سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو افضل صدقہ نہ بتا دوں؟ اپنی بیٹی کو صدقہ دو، جو تمہارے پاس آ گئی ہو ۱؎، اور تمہارے علاوہ اس کا کوئی کمانے والا بھی نہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3667]
حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے افضل صدقہ نہ بتاؤں؟ تیری بیٹی جو (بیوہ ہو کر یا طلاق ہو جانے کی وجہ سے) تیرے پاس واپس آ جائے، اور تیرے سوا اس کا کوئی کمانے والا نہ ہو۔ (اس کے اخراجات برداشت کرنا افضل صدقہ ہے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3667]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3821، ومصباح الزجاجة: 1275)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/175) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (علی بن رباح کا سماع سراقہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے اس لئے سند میں انقطاع ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی شوہر کی موت یا طلاق کی وجہ سے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
علته الإنقطاع بين سراقة وعُلَيّ كما صرح به البوصيري وغيره
فالسند منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 508


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سراقة بن جعشم المدلجي، أبو سفيانصحابي
👤←👥علي بن رباح اللخمي، أبو موسى، أبو عبد الله
Newعلي بن رباح اللخمي ← سراقة بن جعشم المدلجي
ثقة
👤←👥موسى بن علي اللخمي، أبو عبد الرحمن
Newموسى بن علي اللخمي ← علي بن رباح اللخمي
ثقة
👤←👥زيد بن الحباب التميمي، أبو الحسين
Newزيد بن الحباب التميمي ← موسى بن علي اللخمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← زيد بن الحباب التميمي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3667
ألا أدلكم على أفضل الصدقة ابنتك مردودة إليك ليس لها كاسب غيرك
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3667 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3667
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت تقریباً تمام محققین کے نزدیک ضعیف ہے، تاہم حدیث میں بیان کردہ مسئلے کی دیگر روایات کے عمومات سے تائید ہوتی ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 29/ 125، 126)
بنابریں بیٹی کی شادی کردینے کے بعد اس کے اخراجات والد کے ذمے نہیں۔

(3)
بیٹی اور اس کے کم سن بچوں پر خرچ کرنا بہت ثواب کا باعث ہے۔

(4)
  بہن، بھانجی اور بھتیجی پر خرچ کرنا بھی اسی طرح ثواب کا کام ہے۔

(5)
بیوہ اگر رشتے دار نہ بھی ہو تو نادار ہونے کی صورت میں اس کا اور اس کے یتیم بچوں کا خیال رکھنا بڑی نیکی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3667]

Sunan Ibn Majah Hadith 3667 in Urdu