🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب : المصافحة
باب: مصافحہ (یعنی ہاتھ ملانے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3702
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ , عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّدُوسِيِّ ,، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَنْحَنِي بَعْضُنَا لِبَعْضٍ؟ قَالَ:" لَا" , قُلْنَا: أَيُعَانِقُ بَعْضُنَا بَعْضًا؟ قَالَ:" لَا وَلَكِنْ تَصَافَحُوا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا (ملاقات کے وقت) ہم ایک دوسرے سے جھک کر ملیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، پھر ہم نے عرض کیا: کیا ہم ایک دوسرے سے معانقہ کریں (گلے ملیں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ مصافحہ کیا کرو (ہاتھ سے ہاتھ ملاؤ)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3702]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الإستئذان 31 (2728)، (تحفة الأشراف: 822)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/198) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں حنظلہ ضعیف ہے، لیکن معانقہ کے جملہ کے بغیر یہ دوسری سند سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة: 160)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2728)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥حنظلة بن عبد الله البصري، أبو عبد الرحيم
Newحنظلة بن عبد الله البصري ← أنس بن مالك الأنصاري
ضعيف الحديث
👤←👥جرير بن حازم الأزدي، أبو النضر
Newجرير بن حازم الأزدي ← حنظلة بن عبد الله البصري
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← جرير بن حازم الأزدي
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3702 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3702
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے معانقے والی بات کے سوا باقی روایت کو حسن قرار دیا ہے۔ دیکھیے: (الصحيحة رقم: 160)
لیکن مسند احمد کے محققین اور دکتور بشار عواد نے اسے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
مسند احمد کے محققین اس کی بابت لکھتے ہیں کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس کی جو متابعات بیان کی ہیں وہ بھی سخت ضعیف ہیں جس سے مذکورہ روایت ضعیف ہی رہتی ہے۔
مزید لکھتے ہیں کہ مذکورہ روایت کے علاوہ دیگر صحیح روایات سے مصافحے اور معانقے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہےجیسے صحیح بخاری جامع الترمذی مسند ابو یعلی ابن حبان اور سنن الکبری بیہقی میں روایت ہے کہ حضرت انس ؓ سے پوچھا گیا:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں صحابہ کرام ؓ ایک دوسرے سے مصافحہ کیا کرتے تھے؟ حضرت انس ؓ نے فرمایا:
ہاں، صحابہ کرام اس پر عمل کرتے تھے، نیز معجم الا وسط طبرانی میں حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ صحابہ کرا م ؓ جب ایک دوسرے سے ملتے تھے تو مصافحہ کرتے تھے اور جب کسی سفر سے واپس آتے تو معانقہ کرتے تھے، لہذا مذکورہ روایت میں بیان کردہ مسائل کسی صحیح مرفوع حدیث سے ثابت نہیں البتہ صحیح آثار سے ثابت ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت میں بیان کردہ مسائل پر عمل کیا جا سکتا ہے۔
واللہ أعلم۔
تاہم مصافحے کی فضیلت صحیح مرفوع احادیث ہے جیسا کہ درج ذیل روایت میں ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 20/ 240، 241، وسنن ابن ماجة بتحقيق الدكتور بشار عواد رقم: 3702)

(2)
ملاقات کے وقت سلام کرتے ہوئے جھکنا منع ہے کیونکہ اس سے رکوع سے مشابہت ہے جو اللہ کی عبادت ہے۔

(3)
پاؤں چومنا سجدہ سے مشابہت رکھتا ہے، اس لیے یہ زیادہ منع ہے۔

(4)
مصافحہ (ہاتھ ملانا)
سنت ہے۔
مصافحہ دائیں ہاتھ سے کرنا چاہیے دونوں ہاتھوں سے نہیں۔
مصافحے کا مطلب ہی ہتھیلی سے ملنا ہے نہ کہ دو ہتھیلیوں سے اور نہ دو ہتھیلیوں کا ایک ہتھیلی سے ملنا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3702]