سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. بَابُ : فَضْلِ الْحَامِدِينَ
باب: اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے والوں کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 3800
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ الْفَاكِهِ , قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ ابْنَ عَمِّ جَابِرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" أَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ الْحَمْدُ لِلَّهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”سب سے بہترین ذکر «لا إله إلا الله» اور سب سے بہترین دعا «الحمد لله» ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3800]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے افضل ذکر «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ہے، اور سب سے افضل دعا «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3800]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 9 (3383)، (تحفة الأشراف: 2286) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ جو کوئی اللہ کی حمد کرے گا اللہ تعالی اس کو اور زیادہ دے گا، پس اس کی سب مرادیں خود بخود پوری ہوں گی الگ الگ مانگنے کی کیا حاجت ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
10833
الجامع الكامل حدیث نمبر :
10833
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥طلحة بن خراش الأنصاري طلحة بن خراش الأنصاري ← جابر بن عبد الله الأنصاري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥موسى بن إبراهيم الأنصاري موسى بن إبراهيم الأنصاري ← طلحة بن خراش الأنصاري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥دحيم القرشي، أبو سعيد دحيم القرشي ← موسى بن إبراهيم الأنصاري | ثقة حافظ متقن |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3383
| أفضل الذكر لا إله إلا الله أفضل الدعاء الحمد لله |
سنن ابن ماجه |
3800
| أفضل الذكر لا إله إلا الله أفضل الدعاء الحمد لله |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3800 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3800
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
تمام مسنون اذکار رحمت و برکت کا باعث ہیں، لیکن (لَا إِلٰهَ إِلَّا الله)
کا ثواب اور اس کی برکات سب سے زیادہ ہیں۔
(2)
اللہ کی تعریف بھی ایک دعا ہے کیونکہ انسان ثواب کی نیت سے نیکی اور ذکر کرتا ہے، اس طرح اسے مطلوب (ثواب)
حاصل ہو جاتا ہے۔
(3)
ایک مطلب یہ بھی ہے کہ سب سے افضل دعا سورۂ فاتحہ ہے جسے حدیث (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ)
سے بیان کیا گیا ہے۔
اس میں اللہ کی تعریف بھی ہے اور اس سے ہدایت، انعام اور مدد کی دعا بھی۔
فوائد و مسائل:
(1)
تمام مسنون اذکار رحمت و برکت کا باعث ہیں، لیکن (لَا إِلٰهَ إِلَّا الله)
کا ثواب اور اس کی برکات سب سے زیادہ ہیں۔
(2)
اللہ کی تعریف بھی ایک دعا ہے کیونکہ انسان ثواب کی نیت سے نیکی اور ذکر کرتا ہے، اس طرح اسے مطلوب (ثواب)
حاصل ہو جاتا ہے۔
(3)
ایک مطلب یہ بھی ہے کہ سب سے افضل دعا سورۂ فاتحہ ہے جسے حدیث (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ)
سے بیان کیا گیا ہے۔
اس میں اللہ کی تعریف بھی ہے اور اس سے ہدایت، انعام اور مدد کی دعا بھی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3800]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3383
مسلمان کی دعا کے مقبول ہونے کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”سب سے بہتر ذکر «لا إلہ إلا اللہ» ہے، اور بہترین دعا «الحمد للہ» ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3383]
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”سب سے بہتر ذکر «لا إلہ إلا اللہ» ہے، اور بہترین دعا «الحمد للہ» ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3383]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎: (لَا إِلٰهَ إِلَّا الله) افضل ترین ذکر اس لیے ہے کہ یہ اصل التوحید ہے اور توحید کے مثل کوئی نیکی نہیں،
نیز یہ شرک کو سب سے زیادہ نفی کرنے والا جملہ ہے،
اور یہ دونوں باتیں اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہیں،
اور (الحمد لله) سب سے افضل دعاء اس معنی کر کے ہے کہ جو بندہ اللہ کی حمد کرتا ہے وہ اللہ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرتا ہے،
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيْدَنَّكُمْ﴾ (اگرتم میرا شکرادا کرو گے تو میں تم کو اور زیادہ دوں گا) تو اس سے بہتر طلب (دعاء) اور کیا ہو گی،
اور بعض علماء کا کہنا ہے کہ (الحمد لله) سے اشارہ ہے سورہ الحمدللہ میں جو دعاء اس کی طرف،
یعنی ﴿إِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْم﴾ اور یہ سب سے افضل دعاء ہے۔
وضاحت:
1؎: (لَا إِلٰهَ إِلَّا الله) افضل ترین ذکر اس لیے ہے کہ یہ اصل التوحید ہے اور توحید کے مثل کوئی نیکی نہیں،
نیز یہ شرک کو سب سے زیادہ نفی کرنے والا جملہ ہے،
اور یہ دونوں باتیں اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہیں،
اور (الحمد لله) سب سے افضل دعاء اس معنی کر کے ہے کہ جو بندہ اللہ کی حمد کرتا ہے وہ اللہ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرتا ہے،
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيْدَنَّكُمْ﴾ (اگرتم میرا شکرادا کرو گے تو میں تم کو اور زیادہ دوں گا) تو اس سے بہتر طلب (دعاء) اور کیا ہو گی،
اور بعض علماء کا کہنا ہے کہ (الحمد لله) سے اشارہ ہے سورہ الحمدللہ میں جو دعاء اس کی طرف،
یعنی ﴿إِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْم﴾ اور یہ سب سے افضل دعاء ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3383]
Sunan Ibn Majah Hadith 3800 in Urdu
طلحة بن خراش الأنصاري ← جابر بن عبد الله الأنصاري