🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
55. بَابُ : فَضْلِ الْحَامِدِينَ
باب: اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے والوں کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3801
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ , حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ بَشِيرٍ مَوْلَى الْعُمَرِيِّينَ , قَالَ: سَمِعْتُ قُدَامَةَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الْجُمَحِيَّ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , وَهُوَ غُلَامٌ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُعَصْفَرَانِ , قَالَ: فَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَدَّثَهُمْ:" أَنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ , قَالَ: يَا رَبِّ , لَكَ الْحَمْدُ كَمَا يَنْبَغِي لِجَلَالِ وَجْهِكَ , وَلِعَظِيمِ سُلْطَانِكَ , فَعَضَّلَتْ بِالْمَلَكَيْنِ , فَلَمْ يَدْرِيَا كَيْفَ يَكْتُبَانِهَا , فَصَعِدَا إِلَى السَّمَاءِ , وَقَالَا: يَا رَبَّنَا , إِنَّ عَبْدَكَ قَدْ قَالَ مَقَالَةً , لَا نَدْرِي كَيْفَ نَكْتُبُهَا , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا قَالَ عَبْدُهُ , مَاذَا قَالَ: عَبْدِي؟ قَالَا: يَا رَبِّ , إِنَّهُ قَالَ: يَا رَبِّ , لَكَ الْحَمْدُ كَمَا يَنْبَغِي لِجَلَالِ وَجْهِكَ , وَعَظِيمِ سُلْطَانِكَ , فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمَا: اكْتُبَاهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي , حَتَّى يَلْقَانِي , فَأَجْزِيَهُ بِهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بیان کیا کہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے نے یوں کہا: «يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك ولعظيم سلطانك» ”اے میرے رب! میں تیری ایسی تعریف کرتا ہوں جو تیری ذات کے جلال اور تیری سلطنت کی عظمت کے لائق ہے“، تو یہ کلمہ ان دونوں فرشتوں (یعنی کراما ً کاتبین) پر مشکل ہوا، اور وہ نہیں سمجھ سکے کہ اس کلمے کو کس طرح لکھیں، آخر وہ دونوں آسمان کی طرف چڑھے اور عرض کیا: اے ہمارے رب! تیرے بندے نے ایک ایسا کلمہ کہا ہے جسے ہم نہیں جانتے کیسے لکھیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے کیا کہا؟ حالانکہ اس کے بندے نے جو کہا اسے وہ خوب جانتا ہے، ان فرشتوں نے عرض کیا: تیرے بندے نے یہ کلمہ کہا ہے «يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك ولعظيم سلطانك» تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس کلمہ کو (ان ہی لفظوں کے ساتھ نامہ اعمال میں) اسی طرح لکھ دو جس طرح میرے بندے نے کہا: یہاں تک کہ جب میرا بندہ مجھ سے ملے گا تو میں اس وقت اس کو اس کا بدلہ دوں گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3801]
حضرت قدامہ بن ابراہیم جمحی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے جب کہ وہ لڑکے تھے اور انہوں نے عصفر کے رنگے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ (ایک بار) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: ”اللہ کے ایک بندے نے کہا: «يَا رَبِّ لَكَ الْحَمْدُ كَمَا يَنْبَغِي لِجَلَالِ وَجْهِكَ وَلِعَظِيمِ سُلْطَانِكَ» ”اے میرے رب! میں تیری تعریف کرتا ہوں جیسے تیری ذات کی جلالتِ شان اور تیری عظیم سلطنت کے لائق ہے۔“ یہ کلام (اعمال لکھنے والے) دونوں فرشتوں کے لیے مشکل ہو گیا۔ انہیں پتا نہ چلا کہ اسے کس طرح لکھیں (کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی عظمت اور اس کی سلطنت و اقتدار کی شوکت کی پیمائش ممکن نہیں کہ اتنی تعریف لکھ دیتے۔) وہ اوپر آسمانوں میں گئے اور عرض کیا: یارب! تیرے بندے نے ایک بات کہی ہے، ہمیں معلوم نہیں کہ اسے کس طرح لکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، حالانکہ اسے زیادہ معلوم تھا جو اس کے بندے نے کہا: ”میرے بندے نے کیا کہا؟“ انہوں نے کہا: ”یارب! اس نے کہا: اے میرے رب! میں تیری تعریف کرتا ہوں جیسے تیری ذات کی جلالتِ شان اور تیری عظیم سلطنت کے شایاں ہے۔“ اللہ عزوجل نے ان (فرشتوں) سے فرمایا: ”اسے ایسے ہی لکھ دو جیسے میرے بندے نے کہا ہے حتی کہ جب وہ مجھے ملے گا تو میں خود اسے اس کا ثواب دوں گا۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3801]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7377، ومصباح الزجاجة: 1327) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (صدقہ اور قدامہ دونوں ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
قال ابي رحمه الله: ’’صدقة بن بشير وثقه ابن ماكولا (الإكمال 1/ 291)‘‘ قلت يعني معاذ: وقدامه بن ابراهيم الجمحي: وثقه ابن حبان في الثقات والهيثمي في المجمع الزوائد وقال الذهبي في تاريخه: صويلح، وصحح حديثه ابو موسي الاصبهاني في اللطائف وقال البوصيري في حديثه: ’’’هذا إسناد صحيح علي شرط ابن حبان‘‘ (اتحاف الخيرة المھرة: 3000)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥قدامة بن إبراهيم القرشي
Newقدامة بن إبراهيم القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي
صدوق حسن الحديث
👤←👥صدقة بن بشير المدني، أبو محمد
Newصدقة بن بشير المدني ← قدامة بن إبراهيم القرشي
مقبول
👤←👥إبراهيم بن المنذر الحزامي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن المنذر الحزامي ← صدقة بن بشير المدني
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3801
لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك وعظيم سلطانك فقال الله لهما اكتباها كما قال عبدي حتى يلقاني فأجزيه بها
Sunan Ibn Majah Hadith 3801 in Urdu