🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
55. باب : فضل الحامدين
باب: اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے والوں کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3803
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ أَبُو مَرْوَانَ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَى مَا يُحِبُّ , قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي بِنِعْمَتِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ , وَإِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ , قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی اچھی بات دیکھتے تو فرماتے: «الحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات» تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کی مہربانی سے تمام نیک کام پایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں، اور جب کوئی ناپسندیدہ بات دیکھتے تو فرماتے: «الحمد لله على كل حال» ہر حال میں اللہ کا شکر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3803]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی اچھی چیز (یا اچھی صورت حال) دیکھتے تو فرماتے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي بِنِعْمَتِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ» سب تعریفیں اس اللہ کے لیے جس کے فضل و انعام سے نیک کام (اور مقاصد) پورے ہوتے ہیں۔ اور جب کوئی ناپسندیدہ چیز (یا بری صورت حال) سامنے آتی تو فرماتے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ» ہر حال میں اللہ کی تعریف اور اس کا شکر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3803]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17864، ومصباح الزجاجة: 1329) (حسن)» ‏‏‏‏ (تراجع الألبانی: رقم: 96) (سند میں الو لید بن مسلم ثقہ لیکن کثیر التدلیس والتسویہ راوی ہیں، لیکن ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اگلی حدیث سے یہ حسن ہے، بوصیری نے اسناد کی تصحیح کی ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الوليد بن مسلم لم يصرح بالسماع المسلسل
وللحديث شاهد ضعيف في حلية الأولياء (157/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 512

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥صفية بنت شيبة القرشية
Newصفية بنت شيبة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
لها رؤية
👤←👥منصور بن صفية القرشي
Newمنصور بن صفية القرشي ← صفية بنت شيبة القرشية
ثقة
👤←👥زهير بن محمد التميمي، أبو المنذر
Newزهير بن محمد التميمي ← منصور بن صفية القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← زهير بن محمد التميمي
ثقة
👤←👥هشام بن خالد السلامي، أبو مروان
Newهشام بن خالد السلامي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3803
إذا رأى ما يحب قال الحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات وإذا رأى ما يكره قال الحمد لله على كل حال
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3803 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3803
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے اور اس کی بابت تفصیلی بحث کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت بن جاتی ہے۔
واللہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحيحة للألبانى:
رقم: 265، وسنن ابن ماجة بتحقيق محمود محمد محمود حسن نصار، رقم: 3803)

(2)
دنیا کی ہر نعمت اور کامیابی اللہ کا احسان ہے۔
مومن کو ہر موقع پر اس کا اعتراف کرتا چاہیے۔

(3)
مشکلات اور مصائب میں بھی اللہ کے احسان کا کوئی نہ کوئی پہلو موجود ہوتا ہے، مثلاً:
جب بندہ صبر کرتا ہے تو ثواب اور بلند درجات کا مستحق ہو جاتا ہے، اس لحاظ سے مصیبت کے موقع پر اللہ کا شکر ہی کرنا چاہیے شکوہ نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3803]

Sunan Ibn Majah Hadith 3803 in Urdu