🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. باب : الاستغفار
باب: استغفار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3819
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُصْعَبٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّهُ حَدَّثَهُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ , جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا , وَمِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا , وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے استغفار کو لازم کر لیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا، اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دے گا، اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہ ہو گا۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3819]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص استغفار کی پابندی کرے تو اللہ تعالیٰ اسے ہر غم سے نجات دیتا ہے، اس کے لئے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں سے اس کو گمان نہیں ہوتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3819]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 361 (1518)، (تحفة الأشراف: 6288)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/248) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں حکم بن مصعب مجہول راوی ہیں)
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کے گناہ بخش دوں گا، اس حدیث میں موحد مسلمانوں کے لیے بڑی امید ہے کہ توحید کی برکت سے اللہ چاہے گا تو ان کے گناہوں کو چاہے وہ کتنے ہی زیادہ ہوں بخش دے گا، لیکن کسی کو اس مغفرت پر تکیہ نہ کرنا چاہئے، اس لئے کہ انجام حال معلوم نہیں، اور اللہ رب العزت کی جیسی رحمت وسیع ہے ویسے ہی اس کا عذاب بھی سخت ہے، پس ہمیشہ گناہوں سے ڈرتا اور بچتا رہے، توبہ اور استغفار کرتا رہے، اور شرک سے بچنے اور دور رہنے کا بڑا خیال رکھے کیونکہ شرک کے ساتھ بخشے جانے کی توقع نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1518)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥محمد بن علي الهاشمي، أبو عبد الله
Newمحمد بن علي الهاشمي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥الحكم بن مصعب القرشي
Newالحكم بن مصعب القرشي ← محمد بن علي الهاشمي
منكر الحديث
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← الحكم بن مصعب القرشي
ثقة
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← الوليد بن مسلم القرشي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1518
من لزم الاستغفار جعل الله له من كل ضيق مخرجا ومن كل هم فرجا ورزقه من حيث لا يحتسب
سنن ابن ماجه
3819
من لزم الاستغفار جعل الله له من كل هم فرجا ومن كل ضيق مخرجا ورزقه من حيث لا يحتسب
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3819 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3819
اردو حاشہ:
فوائد و  مسائل:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے، تا ہم توبہ استغفار کی اہمیت و فضیلت دیگر احادیث سے مسلم ہے۔
علاوہ ازیں حضرت نوح ؑ نے اپنی قوم کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا تھا:
﴿فَقُلتُ اسْتَغفِر‌وا رَ‌بَّكُم إِنَّهُ كانَ غَفّارً‌ا يُر‌ْسِلِ السَّماءَ عَلَيكُمْ مِدر‌ارً‌ا  وَيُمدِدْكُم بِأَمْوالٍ وَبَنينَ وَيَجعَل لَكُم جَنّاتٍ وَيَجعَل لَكُم أَنْهَارً‌ا﴾ (نوح، 71: 10تا 12)
اپنے رب سے بخشش مانگو (اور توبہ کرو)
وہ یقیناً بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔
وہ تم پر آسمان سےخوب بارش برسائے گا اور تمہیں مال اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیے دریا جاری کر دے گا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ استغفار گناہوں کی معافی کے ساتھ ساتھ دنیوی مشکلات کے حل اور دنیوی نعمتوں کے حصول کاذریعہ بھی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3819]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1518
توبہ و استغفار کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی استغفار کا التزام کر لے ۱؎ تو اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے اور ہر رنج سے نجات پانے کی راہ ہموار کر دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1518]
1518. اردو حاشیہ: یہ روایت تو سندا ضعیف ہے۔ تاہم استغفار کی اہمیت وفضیلت قرآن واحادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ اس لئے استغفار کی کثرت ہر صاحب تقویٰ کا شیوہ ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔ [وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا ﴿٢﴾ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ) [الطلاق۔
➋ 3]

جو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے۔ اللہ اس کے لئے تنگی سے نکلنے کی راہ پیدا فرما دیتا ہے۔ اور ایسے مقام سے رزق دیتا ہے۔جس کا اسے گمان بھی نہ ہو۔ استغفار کے ہوتے ہوئے مومن متبع سنت کو کسی دست غیب اور بدعی عمل کی حاجت نہیں۔ رزق کی تنگی دامن گیر ہو یا دنیا کے ہموم وافکار کا ہجوم تو استغفار کرے وسعت ہوجائے گی۔ اور رنج وفکر سے نجات پائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ [فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا ﴿١١﴾ وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا]
[نوح۔
➓ 12]

اللہ سے بخشش مانگو بے شک وہ بہت ہی بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر موسلا دھار بارشیں برسائے گا۔ (قحط تنگ دستی جاتی رہے گی اور فراخی حاصل ہوگی) اور مالوں اور اولاد سے تمہای مدد فرمائے گا۔ اور تمھیں باغات اور نہریں دے گا۔ [فوائد وحید الزمان بتصرف]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1518]

Sunan Ibn Majah Hadith 3819 in Urdu