سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب : الرجل والمرأة يتوضآن من إناء واحد
باب: مرد اور عورت کے ایک ہی برتن سے وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 382
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ النُّعْمَانِ وَهُوَ ابْنُ سَرْج ، عَنْ أُمِّ صُبَيَّةَ الْجُهَنِيَّةِ ، قَالَتْ:" رُبَّمَا اخْتَلَفَتْ يَدِي، وَيَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوُضُوءِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ ابْنُ مَاجَةَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ: أُمُّ صُبَيَّةَ هِيَ خَوْلَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، فَذَكَرْتُ لِأَبِي زُرْعَةَ، فَقَالَ: صَدَقَ.
ام صبیہ جہنیہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اکثر میرا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ایک ہی برتن سے وضو کرتے وقت ٹکرا جایا کرتا تھا۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے محمد کو کہتے ہوئے سنا کہ ام صبیہ یہ خولہ بنت قیس ہیں اور میں نے اس کا ذکر ابوزرعہ سے کیا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 382]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 39 (78)، (تحفة الأشراف: 18333)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/366، 367) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أم صبية الجهنية، أم صبية | صحابي | |
👤←👥سالم بن سرج الجهني، أبو النعمان سالم بن سرج الجهني ← أم صبية الجهنية | ثقة | |
👤←👥أسامة بن زيد الليثي، أبو زيد أسامة بن زيد الليثي ← سالم بن سرج الجهني | صدوق يهم كثيرا | |
👤←👥أنس بن عياض الليثي، أبو ضمرة أنس بن عياض الليثي ← أسامة بن زيد الليثي | ثقة | |
👤←👥دحيم القرشي، أبو سعيد دحيم القرشي ← أنس بن عياض الليثي | ثقة حافظ متقن |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
78
| اختلفت يدي ويد رسول الله في الوضوء من إناء واحد |
سنن ابن ماجه |
382
| اختلفت يدي ويد رسول الله في الوضوء من إناء واحد |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 382 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث382
اردو حاشہ:
ممکن ہے کہ یہ واقعہ پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہو یا شاید ان کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسا رشتہ ہو جس کی وجہ سے پردہ واجب نہ ہو۔
واللہ اعلم
ممکن ہے کہ یہ واقعہ پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہو یا شاید ان کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسا رشتہ ہو جس کی وجہ سے پردہ واجب نہ ہو۔
واللہ اعلم
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 382]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 78
عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنا
«. . . عَنْ أُمِّ صُبَيَّةَ الْجُهَنِيَّةِ، قَالَتْ: اخْتَلَفَتْ يَدِي وَيَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوُضُوءِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ . . .»
”. . . ام صبیہ جہنیہ (خولہ بنت قیس) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ وضو کرتے وقت ایک ہی برتن میں باری باری پڑتے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 78]
«. . . عَنْ أُمِّ صُبَيَّةَ الْجُهَنِيَّةِ، قَالَتْ: اخْتَلَفَتْ يَدِي وَيَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوُضُوءِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ . . .»
”. . . ام صبیہ جہنیہ (خولہ بنت قیس) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ وضو کرتے وقت ایک ہی برتن میں باری باری پڑتے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 78]
توضیح:
سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محرم ہونے کا کوئی رشتہ ثابت نہیں ہے۔ یہ واقعہ شاید 6ھ آیات حجاب کے نزول سے پہلے کا ہو۔
سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محرم ہونے کا کوئی رشتہ ثابت نہیں ہے۔ یہ واقعہ شاید 6ھ آیات حجاب کے نزول سے پہلے کا ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 78]
سالم بن سرج الجهني ← أم صبية الجهنية