سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : حرمة دم المؤمن وماله
باب: مومن کی جان و مال کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3933
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ , وَيُونُسُ بْنُ يَحْيَ , جَمِيعًا , عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت و آبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3933]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البر والصلة 10 (2564)، (تحفة الأشراف: 14941)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/277، 311، 360) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4882
| كل المسلم على المسلم حرام ماله وعرضه ودمه حسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه المسلم |
سنن ابن ماجه |
3933
| كل المسلم على المسلم حرام دمه وماله وعرضه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3933 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3933
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
کسی کو ذلیل کرنا، اس کی غیبت کرنا، اس پر کسی قسم کا جھوٹا الزام لگانا اور اس کی غلطیوں کی تشہیر کرنا سب کبیرہ گناہ ہیں۔
فوائد و مسائل:
کسی کو ذلیل کرنا، اس کی غیبت کرنا، اس پر کسی قسم کا جھوٹا الزام لگانا اور اس کی غلطیوں کی تشہیر کرنا سب کبیرہ گناہ ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3933]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4882
غیبت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کی ہر چیز اس کا مال، اس کی عزت اور اس کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے، اور آدمی میں اتنی سی برائی ہونا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4882]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کی ہر چیز اس کا مال، اس کی عزت اور اس کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے، اور آدمی میں اتنی سی برائی ہونا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4882]
فوائد ومسائل:
جہاں مسلمان بھائی کی دوسروں کے ہاں بدگوئی کرنا یا توہین کرنا یا اس کا مال مار لینا حرام ہے، وہاں اپنے جی میں اسے حقیر جاننا بھی بہت بڑا گناہ ہے۔
جہاں مسلمان بھائی کی دوسروں کے ہاں بدگوئی کرنا یا توہین کرنا یا اس کا مال مار لینا حرام ہے، وہاں اپنے جی میں اسے حقیر جاننا بھی بہت بڑا گناہ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4882]
أبو سعيد الخزاعى ← أبو هريرة الدوسي