🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب : الرجل يستيقظ من منامه هل يدخل يده في الإناء قبل أن يغسلها
باب: کیا سو کر اٹھنے کے بعد ہاتھ دھونے سے پہلے آدمی اپنے ہاتھ کو برتن میں ڈالے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 395
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ النَّوْمِ، فَأَرَادَ أَنْ يَتَوَضَّأَ، فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي وَضُوئِهِ، حَتَّى يَغْسِلَهَا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ، وَلَا عَلَى مَا وَضَعَهَا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص نیند سے اٹھے، اور وضو کرنا چاہے تو اپنا ہاتھ وضو کے پانی میں نہ ڈالے، جب تک کہ اسے دھو نہ لے، کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا، اور اس نے اسے کس چیز پہ رکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 395]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی نیند سے بیدار ہو کر وضو کرنا چاہے تو وضو کے پانی میں ہاتھ نہ ڈالے جب تک اسے دھو نہ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ رات کو اس کا ہاتھ کہاں رہا ہے اور نہ یہ معلوم ہے کہ اس نے کس چیز پر ہاتھ رکھا ہے۔ ابو اسحاق نے کہا: صحیح سند «جَابِرٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ» رضی اللہ عنہ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 395]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2793، ومصباح الزجاجة: 164) (منکر) (اس حدیث میں «ولا على ما وضعها» کا لفظ منکر ہے، اور صحیح مسلم میں یہ حدیث اس کے بغیر موجود ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 93)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: منكر بزيادة ولا على ما وضعها وهو في م دونها
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو الزبير عنعن
و حديث البخاري (1621) و مسلم (278) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 392


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥عبد الملك بن ميسرة الفزازى، أبو عبد الله، أبو سليمان
Newعبد الملك بن ميسرة الفزازى ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥زياد بن عبد الله البكائي، أبو يزيد، أبو محمد
Newزياد بن عبد الله البكائي ← عبد الملك بن ميسرة الفزازى
صدوق حسن الحديث
👤←👥إسماعيل بن توبة الثقفي، أبو سهل، أبو سليمان
Newإسماعيل بن توبة الثقفي ← زياد بن عبد الله البكائي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
395
إذا قام أحدكم من النوم فأراد أن يتوضأ فلا يدخل يده في وضوئه حتى يغسلها فإنه لا يدري أين باتت يده ولا على ما وضعها
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 395 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث395
اردو حاشہ:
فائدہ:
اس روایت میں تین بار دھونے کی صراحت ہے۔
حدیث 393 میں دو یا تین بار دھونے کا ذکر ہے، اس لیے علماء کہتے ہیں کہ تین بار دھونا بہتر ہے واجب نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 395]

Sunan Ibn Majah Hadith 395 in Urdu