علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب : ما جاء في التسمية في الوضوء
باب: بسم اللہ کہہ کر وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 397
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِى سَعِيدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ".
ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو سے پہلے «بسم اللہ» نہ کہے اس کا وضو نہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 397]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4128، ومصباح الزجاجة: 66)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطہارة 25 (718) (حسن) (ملاحظہ ہو: الإرواء: 81)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
انظر تحقيقي مقالات (2/ 200)
انظر تحقيقي مقالات (2/ 200)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
397
| لا وضوء لمن لم يذكر اسم الله عليه |
سنن الدارمي |
714
| لا وضوء لمن لم يذكر اسم الله عليه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 397 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث397
اردو حاشہ: 1۔
اس حدیث کی روشنی میں بعض علماء نے وضو کے شروع میں ”بسم الله“ پڑھنے کو واجب قرار دیا ہے اور بعض علماء نے اسے سنت قرار دیا ہے۔
ان کے نزدیک ”وضو نہیں“ کا مطلب یہ ہے کہ ”کما حقہ مکمل وضو نہیں“ لیکن یہ تاویل بلا دلیل ہے
(2)
اگر”بسم الله“ۃبھول گئی اور وضو کے دوران میں یاد آئی تو فوراً پڑھ لے، تاہم وضو دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بھول چوک معاف ہے۔
اس حدیث کی روشنی میں بعض علماء نے وضو کے شروع میں ”بسم الله“ پڑھنے کو واجب قرار دیا ہے اور بعض علماء نے اسے سنت قرار دیا ہے۔
ان کے نزدیک ”وضو نہیں“ کا مطلب یہ ہے کہ ”کما حقہ مکمل وضو نہیں“ لیکن یہ تاویل بلا دلیل ہے
(2)
اگر”بسم الله“ۃبھول گئی اور وضو کے دوران میں یاد آئی تو فوراً پڑھ لے، تاہم وضو دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بھول چوک معاف ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 397]
Sunan Ibn Majah Hadith 397 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي سعيد الخدري ← أبو سعيد الخدري