🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب : بدأ الإسلام غريبا
باب: اسلام کی شروعات اجنبی حالت میں ہوئی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3986
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , وسويد بن سعيد , قَالُوا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا , وَسَيَعُودُ غَرِيبًا , فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا اور عنقریب پھر اجنبی ہو جائے گا، تو ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3986]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 65 (145)، (تحفة الأشراف: 13447) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سلمان مولى عزة، أبو حازم
Newسلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥يزيد بن كيسان اليشكري، أبو إسماعيل، أبو منين
Newيزيد بن كيسان اليشكري ← سلمان مولى عزة
صدوق حسن الحديث
👤←👥مروان بن معاوية الفزاري، أبو عبد الله
Newمروان بن معاوية الفزاري ← يزيد بن كيسان اليشكري
ثقة حافظ وكان يدلس أسماء الشيوخ
👤←👥سويد بن سعيد الهروي، أبو محمد
Newسويد بن سعيد الهروي ← مروان بن معاوية الفزاري
صدوق يخطئ كثيرا
👤←👥يعقوب بن كاسب المدني، أبو يوسف
Newيعقوب بن كاسب المدني ← سويد بن سعيد الهروي
صدوق يهم
👤←👥دحيم القرشي، أبو سعيد
Newدحيم القرشي ← يعقوب بن كاسب المدني
ثقة حافظ متقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
372
بدأ الإسلام غريبا وسيعود كما بدأ غريبا طوبى للغرباء
سنن ابن ماجه
3986
بدأ الإسلام غريبا وسيعود غريبا طوبى للغرباء
مشكوة المصابيح
159
بدا الإسلام غريبا وسيعود كما بدا فطوبى للغرباء
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3986 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3986
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
غریب اجنبی اور بے وطن کو کہتے ہیں۔
شروع میں اسلام کی یہ کیفیت تھی کہ اسے کوئی جانتا نہ تھا۔
معاشرہ اسے قبول کرنے پر تیار نہ تھا۔
آہستہ آہستہ لوگ اسے سمجھتے اور قبول کرتے گئے حتی کہ ہر طرف اسلام کا بول بالا ہوگیا اور کفر و شرک ختم ہوگیا۔

(2)
خلفائے راشدین کے دور کے بعد اسلام میں بدعات کا ظہور ہوا، بعد کے ادوار میں مسلمانوں نے غیر مسلموں کے رسم ورواج اور خیالات اپنالیے۔
اس طرح اصل اسلام چند لوگوں تک محدود ہو کر رہ گیا۔
اکثریت نے خود ساختہ رسم ورواج اور غلط عقائد واعمال ہی کو صحیح اسلام سمجھ لیا۔

(3)
جن اجنبیوں کو مبارکباد دی گئی ہے ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو بدعات کی کثرت میں سنت پر عمل پیرا ہیں، غلط عقائد مشہور ہونے پر صحیح عقیدے پر قائم رہیں اور اخلاقی انحطاط کے دور میں صحیح اسلامی اخلاق کو اختیار کریں۔

(4)
حق وباطل کا دارومدار کسی نام کو اختیار کرنے پر نہیں بلکہ قرآن وحدیث کی موافقت اور مخالفت پر ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3986]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 159
اسلام کا وصف
«. . . ‏‏‏‏وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ فَطُوبَى للغرباء» . رَوَاهُ مُسلم . . .»
. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام شروع ہوا غریب اور آئندہ چل کر بھی ایسا ہی ہو جائے گا جیسا کہ شروع ہوا تھا پس غریبوں کے لیے خوش خبری ہو۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 159]
تخریج الحدیث:
[صحيح مسلم 232؍145]

فقہ الحدیث:
➊ ہر وقت حق پر ڈٹے رہنا چاہئیے اگرچہ باقی ساری دنیا بھی حق کے مخالف ہو جائے۔
➋ دین اسلام اور حق کے مخالفین کی کثرت سے کبھی نہیں گھبرانا چاہیے، کیونکہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بعد والے دور کے علاوہ دنیا میں ہمیشہ اہل حق کی تعداد تھوڑی رہے گی۔
➌ جن لوگوں کو اس حدیث میں «غرباء» (اجنبی) کہا گیا ہے، ان سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں حدیث میں آیا ہے:
«ناس صالحون قليل فى ناس سوء كثير، من يعصيهم أكثر ممن يطيعهم .»
بہت زیادہ برے لوگوں میں (رہنے والے) تھوڑے سے نیک لوگ ہیں، ان کی اطاعت کرنے والوں کے مقابلے میں نافرمانی کرنے والے زیادہ ہوں گے۔ [كتاب الزهد للامام عبدالله بن المبارك: 775 و سنده حسن]
◄ معلوم ہوا کہ غرباء سے وہ صحیح العقیدہ متبعین کتاب و سنت مراد ہیں جن کی مخالفت کرنے والے اکثریت میں ہوتے ہیں، اس سے کوئی خاص پارٹی یا جماعت مراد نہیں ہے۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 159]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 372
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کا آغاز غربت (اجنبیت) کی حالت میں ہوا اور یقیناً (آخر میں) اجنبی بن کر رہ جائے گا۔ تو اجنبی بن کر رہ جانے والوں کے لیے مسرّت و شادمانی ہو۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:372]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
غَرِيْبٌ:
غربت سے ماخوذ ہے،
غریب اجنبی،
پردیسی کو کہتے ہیں،
جس کی دوسرے لوگوں کے ساتھ جان پہچان نہیں ہوتی،
اور وہ لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے،
اور غریب کی جمع غرباء ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرؓ کو فرمایا تھا «كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ» کہ دنیا میں پردیسی اور اجنبی بن کر رہ۔
(2)
طُوبَى:
فرحت و مسرت آنکھوں کی ٹھنڈک،
بہتر انجام،
قابل رشک حالت۔
فوائد ومسائل:
اسلام کا آغاز اجنبیت اور غربت میں ہوا،
لوگ اس سے مانوس نہیں تھے،
اس کی طرف ان کی توجہ اور اہتمام نہ تھا،
اس نے آہستہ آہستہ اپنے قد م پھیلائے (جمائے)
اور لوگوں میں مقبول ومانوس بنا۔
اور آہستہ اہستہ غربت واجنبیت کی یہ حالت لوٹ کر آئے گی۔
لوگ اس کی تعلیمات وہدایات سے دور ہٹتے جائیں گے اور وہ لوگوں میں غیر مانوس اور مقبول ہوتا جائے گا،
اس پر عمل کرنے والے لوگ دن بدن کم ہوتے جائیں گے،
اور آخرت میں سرفرازی اور سعادت کے حقدار یہی ہوں گے۔
آج مادیت اور مغربیت کے غلبہ واستیلاء کی صورت میں اس پیش گوئی کے ابتدائی آثار رونما ہوچکے ہیں،
دن بدن عملی طور پر اسلامی معاشرت،
اسلامی تمدن وثقافت اور اسلامی روایات دم توڑ رہی ہیں اور لوگ عملا دین سے دور ہورہے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 372]