🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب : الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر
باب: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (یعنی بھلی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4004
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ a> , عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ , وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ , قَبْلَ أَنْ تَدْعُوا فَلَا يُسْتَجَابَ لَكُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: تم بھلی بات کا حکم دو، اور بری بات سے منع کرو، اس سے پہلے کہ تم دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4004]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16349، ومصباح الزجاجة: 1408)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/159) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں عمر بن عثمان مستور، اور عاصم بن عمر مجہول راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے، نیز ابن حبان نے تصحیح کی ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: 383)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عاصم بن عمر بن عثمان: مجھول (تقريب: 3070)
و للحديث شواھد ضعيفة عند الطبراني (الأوسط: 1389) والخطيب (تاريخ بغداد 13/ 92) وغيرهما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 519

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥عاصم بن عمر بن عثمان
Newعاصم بن عمر بن عثمان ← عروة بن الزبير الأسدي
مجهول الحال
👤←👥عمرو بن عثمان المدني
Newعمرو بن عثمان المدني ← عاصم بن عمر بن عثمان
مقبول
👤←👥هشام بن سعد القرشي، أبو سعيد، أبو عباد، أبو سعد
Newهشام بن سعد القرشي ← عمرو بن عثمان المدني
صدوق له أوهام
👤←👥معاوية بن هشام الأسدي، أبو الحسن
Newمعاوية بن هشام الأسدي ← هشام بن سعد القرشي
صدوق له أوهام
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← معاوية بن هشام الأسدي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
4004
مروا بالمعروف وانهوا عن المنكر قبل أن تدعوا فلا يستجاب لكم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4004 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4004
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نیکی کا حکم دینے سے مراد مناسب طریقے سے نیکی کی ترغیب دینا ہے۔
حاکم اپنی رعایا کو، والد اپنی اولاد کو اور خاوند اپنی بیوی کو حکم دے سکتا ہے جس کی وہ تعمیل کرتے ہیں۔
دوسروں کو اس انداز سے حکم نہیں دیا جاسکتا۔

(2)
برائی سے منع کرنے کی طاقت ہو تو ہاتھ سے منع کرنا (جیسے حاکم، والدین اور خاوند وغیرہ)
ورنہ زبان سے سمجھنا ضروری ہے (جیسے عالم عوام کو سمجھاتا ہے)
اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو گناہ سے دلی نفرت ضروری ہے۔

(3)
گناہوں کا ارتکاب دعا کی قبولیت میں رکاوٹ بن جاتا ہے لہٰذا توبہ کرنی چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4004]