سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب : الصبر على البلاء
باب: آفات و مصائب پر صبر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4031
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" عِظَمُ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ , وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ , فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا , وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السُّخْطُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جتنی بڑی مصیبت ہوتی ہے اتنا ہی بڑا ثواب ہوتا ہے، اور بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو اسے آزماتا ہے، پھر جو کوئی اس سے راضی و خوش رہے تو وہ اس سے راضی رہتا ہے، اور جو کوئی اس سے خفا ہو تو وہ بھی اس سے خفا ہو جاتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4031]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زیادہ ثواب بڑی آزمائش کا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو ان پر آزمائش ڈالتا ہے۔ جو راضی رہے اسے رضا ملے گی، اور جو ناراض ہو، اسے ناراضی حاصل ہوگی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4031]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الزہد 56 (2396)، (تحفة الأشراف: 849) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2396)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 520
إسناده ضعيف
ترمذي (2396)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 520
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥سعد بن سنان الكندي سعد بن سنان الكندي ← أنس بن مالك الأنصاري | صدوق له أفراد | |
👤←👥يزيد بن قيس الأزدي، أبو رجاء يزيد بن قيس الأزدي ← سعد بن سنان الكندي | ثقة فقيه وكان يرسل | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← يزيد بن قيس الأزدي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥محمد بن رمح التجيبي، أبو عبد الله محمد بن رمح التجيبي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2396
| عظم الجزاء مع عظم البلاء إن الله إذا أحب قوما ابتلاهم فمن رضي فله الرضا ومن سخط فله السخط |
سنن ابن ماجه |
4031
| عظم الجزاء مع عظم البلاء إن الله إذا أحب قوما ابتلاهم فمن رضي فله الرضا ومن سخط فله السخط |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4031 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4031
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
آزمائش میں بندے کا فائدہ ہوتا ہے۔
اس لیے اللہ کے فیصلے پر راضی رہتے ہوئے شریعت کے دائرے میں رہ کر جدوجہد کرنا ضروری ہے۔
اگر کسی مصیبت پر بندہ ناراضی کا اظہار کرےگا تو مصیبت تو اپنے مقررہ وقت پر ہی ختم ہوگی لیکن بندہ ثواب سے محروم ہو کر اللہ کو ناراض کرلے گا۔
(2)
مصیبت بھی اللہ کی ایک نعمت ہے بشرطیکہ احکام کی نافرمانی نہ کی جائے۔
فوائد و مسائل:
(1)
آزمائش میں بندے کا فائدہ ہوتا ہے۔
اس لیے اللہ کے فیصلے پر راضی رہتے ہوئے شریعت کے دائرے میں رہ کر جدوجہد کرنا ضروری ہے۔
اگر کسی مصیبت پر بندہ ناراضی کا اظہار کرےگا تو مصیبت تو اپنے مقررہ وقت پر ہی ختم ہوگی لیکن بندہ ثواب سے محروم ہو کر اللہ کو ناراض کرلے گا۔
(2)
مصیبت بھی اللہ کی ایک نعمت ہے بشرطیکہ احکام کی نافرمانی نہ کی جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4031]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2396
مصیبت میں صبر کرنے کا بیان۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر اور بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دنیا ہی میں جلد سزا دے دیتا ہے ۱؎، اور جب اپنے کسی بندے کے ساتھ شر (برائی) کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے گناہوں کی سزا کو روکے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزا دیتا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2396]
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر اور بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دنیا ہی میں جلد سزا دے دیتا ہے ۱؎، اور جب اپنے کسی بندے کے ساتھ شر (برائی) کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے گناہوں کی سزا کو روکے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزا دیتا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2396]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اللہ تعالیٰ سے مشکلات سے دوچارکرتا ہے،
اورمختلف قسم کی آزمائشوں میں ڈال کراس کا امتحان لیتا ہے،
گویا دنیا کی آزمائشیں مومن کے لیے نعمت ہیں،
یہ گناہوں کی بخشش اورثواب میں اضافہ کا باعث ہیں،
شرف وفضیلت کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ بندہ ہرآزمائش وتکلیف میں صبرورضا کا پیکرہو۔
وضاحت:
1؎:
یعنی اللہ تعالیٰ سے مشکلات سے دوچارکرتا ہے،
اورمختلف قسم کی آزمائشوں میں ڈال کراس کا امتحان لیتا ہے،
گویا دنیا کی آزمائشیں مومن کے لیے نعمت ہیں،
یہ گناہوں کی بخشش اورثواب میں اضافہ کا باعث ہیں،
شرف وفضیلت کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ بندہ ہرآزمائش وتکلیف میں صبرورضا کا پیکرہو۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2396]
Sunan Ibn Majah Hadith 4031 in Urdu
سعد بن سنان الكندي ← أنس بن مالك الأنصاري