🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. بَابُ: الصَّبْرِ عَلَى الْبَلاَءِ
باب: آفات و مصائب پر صبر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4023
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ , وَيَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ:" الْأَنْبِيَاءُ , ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ , يُبْتَلَى الْعَبْدُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ , فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صُلْبًا اشْتَدَّ بَلَاؤُهُ , وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ , فَمَا يَبْرَحُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے زیادہ مصیبت اور آزمائش کا شکار کون ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں، پھر جو ان کے بعد ہیں، بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر وہ دین میں سخت اور پختہ ہے تو آزمائش بھی سخت ہو گی، اور اگر دین میں نرم اور ڈھیلا ہے تو مصیبت بھی اسی انداز سے نرم ہو گی، مصیبتوں سے بندے کے گناہوں کا کفارہ ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ بندہ روے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4023]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے سخت مصیبت کس پر آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبیوں پر، پھر جو ان کے بعد سب سے افضل ہیں، پھر جو ان کے بعد افضل ہیں۔ بندے پر اس کے دین کے مطابق آزمائش آتی ہے۔ اگر وہ اپنے دین (اور ایمان) میں مضبوط ہو تو اس کی آزمائش بھی سخت ہوتی ہے۔ اگر اس کا ایمان نرم ہو تو اس کے ایمان کے مطابق آزمائش آتی ہے۔ بندے پر آزمائش (اور مصیبت) آتی رہتی ہے حتیٰ کہ اسے ایسا کر کے چھوڑتی ہے کہ وہ زمین پر چل پھر رہا ہوتا ہے اور اس پر کوئی گناہ (باقی) نہیں ہوتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4023]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الزہد 56 (2398)، (تحفة الأشراف: 3934)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/172، 173، 180، 185)، سنن الدارمی/الرقاق 67 (2825) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4024
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ , فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ , فَوَجَدْتُ حَرَّهُ بَيْنَ يَدَيَّ فَوْقَ اللِّحَافِ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا أَشَدَّهَا عَلَيْكَ , قَالَ:" إِنَّا كَذَلِكَ يُضَعَّفُ لَنَا الْبَلَاءُ وَيُضَعَّفُ لَنَا الْأَجْرُ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ:" الْأَنْبِيَاءُ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ الصَّالِحُونَ , إِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ لَيُبْتَلَى بِالْفَقْرِ حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُهُمْ إِلَّا الْعَبَاءَةَ يُحَوِّيهَا , وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ لَيَفْرَحُ بِالْبَلَاءِ كَمَا يَفْرَحُ أَحَدُكُمْ بِالرَّخَاءِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کو بخار آ رہا تھا، میں نے اپنا ہاتھ آپ پر رکھا تو آپ کے بخار کی گرمی مجھے اپنے ہاتھوں میں لحاف کے اوپر سے محسوس ہوئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو بہت ہی سخت بخار ہے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا یہی حال ہے ہم لوگوں پر مصیبت بھی دگنی (سخت) آتی ہے، اور ثواب بھی دگنا ملتا ہے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کن لوگوں پر زیادہ سخت مصیبت آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء پر، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر کن پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر نیک لوگوں پر، بعض نیک لوگ ایسی تنگ دستی میں مبتلا کر دئیے جاتے ہیں کہ ان کے پاس ایک چوغہ کے سوا جسے وہ اپنے اوپر لپیٹتے رہتے ہیں کچھ نہیں ہوتا، اور بعض آزمائش سے اس قدر خوش ہوتے ہیں جتنا تم میں سے کوئی مال و دولت ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4024]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار تھا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر ہاتھ رکھا تو لحاف کے اوپر رکھے ہوئے میرے ہاتھ کو حرارت محسوس ہوئی۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنا سخت بخار ہے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم (انبیاء) اسی طرح ہوتے ہیں کہ ہمیں مصیبت (یا آزمائش) بھی دگنی آتی ہے اور ثواب بھی دوگنا ملتا ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے زیادہ سخت آزمائش کن لوگوں کو آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبیوں کو۔ میں نے کہا: ان کے بعد؟ فرمایا: نیک لوگوں کو۔ انہیں فقر کے ذریعے سے آزمایا جاتا تھا کہ (بعض اوقات) ایک آدمی کو صرف ایک چادر میسر ہوتی تھی جسے وہ جسم پر لپیٹ لیتا تھا۔ اور وہ مصیبت پر اس طرح خوش ہوتے تھے جس طرح تم راحت پر خوش ہوتے ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4024]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4189، ومصباح الزجاجة: 1417) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4025
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ شَقِيقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ" يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ , وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ , وَيَقُولُ: رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء کرام (علیہم السلام) میں سے ایک نبی کی حکایت بیان کر رہے تھے جن کو ان کی قوم نے مارا پیٹا تھا، وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جاتے تھے، اور یہ کہتے جاتے تھے: اے میرے رب! میری قوم کی مغفرت فرما، کیونکہ وہ لوگ نہیں جانتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4025]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی نبی کی حالت بیان فرما رہے ہیں: اسے اس کی قوم نے مارا، وہ اپنے چہرے سے خون صاف کرتے تھے اور کہتے تھے: «اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ» میرے رب! میری قوم کو معاف کر دے، وہ جانتے نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4025]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 54 (3477)، صحیح مسلم/الجہاد 36 (1792)، (تحفة الأشراف: 9260)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/456، 457، 380، 427، 432) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد میں جب کافروں کے ہاتھ سے پتھر کھائے، چہرہ مبارک زخمی ہوا، دانت شہید ہوا، خون بہہ رہا تھا، لوگوں نے عرض کیا کہ اب تو کافروں کے لئے بددعا فرمائیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ میری قوم کو ہدایت دے، یہ دین کو نہیں جانتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4026
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ: رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260 , وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا , لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ , وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ شک کرنے کے حقدار ہیں ۱؎ جب انہوں نے کہا: اے میرے رب تو مجھ کو دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ تو اللہ نے فرمایا: کیا تجھے یقین نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (لیکن یہ سوال اس لیے ہے) کہ میرے دل کو اطمینان حاصل ہو جائے، اور اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ زور آور شخص کی پناہ ڈھونڈھتے تھے، اگر میں اتنے دنوں تک قید میں رہا ہوتا جتنے عرصہ یوسف علیہ السلام رہے، تو جس وقت بلانے والا آیا تھا میں اسی وقت اس کے ساتھ ہو لیتا ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4026]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ شک کرنے کا حق رکھتے ہیں جب انہوں نے فرمایا: ﴿رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ ؕ قَالَ بَلٰی وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَىِٕنَّ قَلْبِیْ﴾ [سورة البقرة: 260] میرے رب! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تو ایمان نہیں لایا؟ ابراہیم نے کہا: کیوں نہیں؟ لیکن (سوال اس لیے کیا ہے) تا کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔ اور اللہ تعالیٰ حضرت لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے! وہ مضبوط سہارے کی پناہ لے رہے تھے۔ اور اگر میں قید میں اتنا عرصہ رہتا جتنا عرصہ حضرت یوسف علیہ السلام رہے تو میں بلانے والے کی بات مان لیتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4026]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 11 (3372)، صحیح مسلم/الإیمان 69 (151)، (تحفة الأشراف: 13325، 15313)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/326) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مفہوم یہ ہے کہ اگر ہم کو شک نہیں ہوا تو بھلا ابراہیم علیہ السلام کو کیوں کر شک ہو سکتا ہے، انہوں نے تو عین الیقین کا مرتبہ حاصل کرنے کے لئے یہ سوال کیا تھا کہ مردے کو زندہ کرنا انہیں دکھا دیا جائے۔
۲؎: یہ تعریف ہے یوسف علیہ السلام کے صبر اور استقلال کی، اتنی لمبی قید پر بھی انہوں نے رہائی کے لئے جلدی نہیں کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4027
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ كُسِرَتْ رَبَاعِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشُجَّ , فَجَعَلَ الدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ , وَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ , وَيَقُولُ:" كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ خَضَبُوا وَجْهَ نَبِيِّهِمْ بِالدَّمِ , وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ سورة آل عمران آية 128".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک دانت ٹوٹ گیا، اور سر زخمی ہو گیا، تو خون آپ کے چہرہ مبارک پر بہنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خون کو اپنے چہرہ سے پونچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: وہ قوم کیسے کامیاب ہو سکتی ہے جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون سے رنگ دیا ہو، حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دے رہا تھا، تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ليس لك من الأمر شيء» اے نبی! آپ کو اس معاملے میں کچھ اختیار نہیں ہے (سورة آل عمران: 128)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4027]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگِ احد میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دانت شہید ہوا، چہرہ مبارک زخمی ہوا اور خون آپ کے چہرہ مبارک سے بہنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چہرہ مبارک سے خون پونچھتے تھے اور فرماتے تھے: یہ قوم کیسے نجات پائے گی جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون آلود کر دیا، جب کہ وہ ان کو اللہ کی طرف بلا رہا تھا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ﴾ [سورة آل عمران: 128] اے پیغمبر! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں۔ (اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول فرما لے، اور چاہے تو انہیں عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4027]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: 725)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجہاد 36 (1791)، سنن الترمذی/التفسیر 4 (3003)، مسند احمد (3/113) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4028
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينٌ؟ قَدْ خُضِّبَ بِالدِّمَاءِ قَدْ ضَرَبَهُ بَعْضُ أَهْلِ مَكَّةَ , فَقَالَ: مَا لَكَ؟ قَالَ:" فَعَلَ بِي هَؤُلَاءِ وَفَعَلُوا" , قَالَ: أَتُحِبُّ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً؟ قَالَ:" نَعَمْ أَرِنِي" , فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَاءِ الْوَادِي , قَالَ: ادْعُ تِلْكَ الشَّجَرَةَ فَدَعَاهَا , فَجَاءَتْ تَمْشِي حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ , قَالَ: قُلْ لَهَا فَلْتَرْجِعْ , فَقَالَ لَهَا: فَرَجَعَتْ حَتَّى عَادَتْ إِلَى مَكَانِهَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَسْبِي".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت آپ غمگین بیٹھے ہوئے تھے، اور لہولہان تھے، اہل مکہ میں سے کچھ لوگوں نے آپ کو خشت زنی کر کے لہولہان کر دیا تھا، انہوں نے کہا: آپ کو کیا ہو گیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے، جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو کوئی نشانی دکھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں دکھائیے، پھر جبرائیل علیہ السلام نے وادی کے پیچھے ایک درخت کی طرف دیکھا، اور کہا: آپ اس درخت کو بلائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آواز دی، وہ آ کر آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا، پھر انہوں نے کہا: آپ اس سے کہیے کہ وہ واپس جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس جانے کو کہا، تو وہ اپنی جگہ چلا گیا، (یہ دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے یہ نشانی (معجزہ) ہی کافی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4028]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک دن حضرت جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت غمگین بیٹھے ہوئے تھے۔ مکہ کے لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خشت زنی کر کے لہو لہان کر دیا تھا۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا: کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ ظلم کیا ہے۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے فرمایا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے ہیں کہ آپ کو ایک نشانی دکھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں دکھائیے۔ انہوں نے وادی کی دوسری طرف ایک درخت کی طرف دیکھ کر کہا: اس درخت کو بلائیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا تو وہ چل کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا: اسے کہیے واپس چلا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا تو وہ واپس ہو گیا حتیٰ کہ اپنی جگہ پر چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے کافی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4028]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف (925، ومصباح الزجاجة: 1419)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/113)، سنن الدارمی/المقدمة 4 (23) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 520

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4029
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ شَقِيقٍ , عَنْ حُذَيْفَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحْصُوا لِي كُلَّ مَنْ تَلَفَّظَ بِالْإِسْلَامِ" , قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَتَخَافُ عَلَيْنَا , وَنَحْنُ مَا بَيْنَ السِّتِّ مِائَةِ إِلَى السَّبْعِ مِائَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّكُمْ أَنْ تُبْتَلُوا" , قَالَ: فَابْتُلِينَا حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا مَا يُصَلِّي إِلَّا سِرًّا.
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام مسلمانوں کی تعداد شمار کر کے مجھے بتاؤ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہم پر (اب بھی دشمن کی طرف سے) خطرہ محسوس کرتے ہیں، جب کہ اب ہماری تعداد چھ اور سات سو کے درمیان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ نہیں جانتے شاید کہ تم آزمائے جاؤ۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو واقعی ہم آزمائے گئے، یہاں تک کہ ہم میں سے اگر کوئی نماز بھی پڑھتا تو چھپ کر پڑھتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4029]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے وہ سب لوگ شمار کر دو جنہوں نے اسلام کا کلمہ پڑھا ہے۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کو ہمارے بارے میں خوف ہے جب کہ ہماری تعداد چھ اور سات سو کے درمیان ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں نہیں معلوم، شاید تم پر آزمائش آئے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر ہم پر آزمائش آئی حتیٰ کہ ہم چھپ چھپ کر نماز پڑھنے لگے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4029]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 181 (3060، 3061)، صحیح مسلم/الإیمان 67 (149)، (تحفة الأشراف: 3338)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/384) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4030
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ وَجَدَ رِيحًا طَيِّبَةً , فَقَالَ:" يَا جِبْرِيلُ , مَا هَذِهِ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ" , قَالَ: هَذِهِ رِيحُ قَبْرِ الْمَاشِطَةِ وَابْنَيْهَا وَزَوْجِهَا , قَالَ: وَكَانَ بَدْءُ ذَلِكَ , أَنَّ الْخَضِرَ كَانَ مِنْ أَشْرَافِ بَنِي إِسْرَائِيلَ , وَكَانَ مَمَرُّهُ بِرَاهِبٍ فِي صَوْمَعَتِهِ فَيَطَّلِعُ عَلَيْهِ الرَّاهِبُ فَيُعَلِّمُهُ الْإِسْلَامَ , فَلَمَّا بَلَغَ الْخَضِرُ زَوَّجَهُ أَبُوهُ امْرَأَةً , فَعَلَّمَهَا الْخَضِرُ وَأَخَذَ عَلَيْهَا أَنْ لَا تُعْلِمَهُ أَحَدًا , وَكَانَ لَا يَقْرَبُ النِّسَاءَ فَطَلَّقَهَا ثُمَّ زَوَّجَهُ أَبُوهُ أُخْرَى , فَعَلَّمَهَا وَأَخَذَ عَلَيْهَا أَنْ لَا تُعْلِمَهُ أَحَدًا , فَكَتَمَتْ إِحْدَاهُمَا , وَأَفْشَتْ عَلَيْهِ الْأُخْرَى , فَانْطَلَقَ هَارِبًا حَتَّى أَتَى جَزِيرَةً فِي الْبَحْرِ , فَأَقْبَلَ رَجُلَانِ يَحْتَطِبَانِ فَرَأَيَاهُ , فَكَتَمَ أَحَدُهُمَا وَأَفْشَى الْآخَرُ , وَقَالَ: قَدْ رَأَيْتُ الْخَضِرَ , فَقِيلَ: وَمَنْ رَآهُ مَعَكَ؟ قَالَ: فُلَانٌ: فَسُئِلَ فَكَتَمَ , وَكَانَ فِي دِينِهِمْ أَنَّ مَنْ كَذَبَ قُتِلَ , قَالَ: فَتَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ الْكَاتِمَةَ , فَبَيْنَمَا هِيَ تَمْشُطُ ابْنَةَ فِرْعَوْنَ إِذْ سَقَطَ الْمُشْطُ , فَقَالَتْ: تَعِسَ فِرْعَوْنُ , فَأَخْبَرَتْ أَبَاهَا , وَكَانَ لِلْمَرْأَةِ ابْنَانِ وَزَوْجٌ , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ فَرَاوَدَ الْمَرْأَةَ وَزَوْجَهَا أَنْ يَرْجِعَا عَنْ دِينِهِمَا فَأَبَيَا , فَقَالَ: إِنِّي قَاتِلُكُمَا , فَقَالَا: إِحْسَانًا مِنْكَ إِلَيْنَا إِنْ قَتَلْتَنَا أَنْ تَجْعَلَنَا فِي بَيْتٍ , فَفَعَلَ , فَلَمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ رِيحًا طَيِّبَةً فَسَأَلَ جِبْرِيلَ فَأَخْبَرَهُ.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات ایک خوشبو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل! یہ کیسی خوشبو ہے؟، انہوں نے کہا: یہ اس عورت کی قبر کی خوشبو ہے جو فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرتی تھی، اور اس کے دونوں بیٹوں اور شوہر کے قبر کی خوشبو ہے، (جنہیں ایمان لانے کی وجہ سے فرعون نے قتل کر دیا تھا) اور ان کے قصے کی ابتداء اس طرح ہے کہ خضر بنی اسرائیل کے شریف لوگوں میں تھے، ان کا گزر ایک (راہب) درویش کے عبادت خانے سے ہوتا تو وہ عابد راہب اوپر سے ان کو جھانکتا، اور ان کو اسلام کی تعلیم دیتا، آخر کار جب خضر جوان ہوئے تو ان کے والد نے ایک عورت سے ان کا نکاح کر دیا، خضر نے اس عورت کو اسلام کی تعلیم دی، اور اس سے عہد لے لیا کہ اس بات سے کسی کو باخبر مت کرنا، خضر عورتوں کے قریب نہیں جاتے تھے، آخر انہوں نے اس عورت کو طلاق دے دی، اس کے بعد ان کے والد نے ان کا نکاح دوسری عورت سے کر دیا، خضر نے اس سے بھی نہ بتانے کا عہد لے کر اسے دین کی تعلیم دی، لیکن ان میں سے ایک عورت نے اس راز کو چھپا لیا، اور دوسری نے ظاہر کر دیا (کہ یہ دین کی تعلیم اسے خضر نے سکھائی ہے، فرعون نے ان کی گرفتاری کا حکم دیا یہ سنتے ہی) وہ فرار ہو کر سمندر کے ایک جزیرہ میں چھپ گئے، وہاں دو شخص لکڑیاں چننے کے لیے آئے، اور ان دونوں نے خضر کو دیکھا، ان میں سے بھی ایک نے تو ان کا حال پوشیدہ رکھا، اور دوسرے نے ظاہر کر دیا اور کہا: میں نے خضر کو فلاں جزیرے میں دیکھا ہے، لوگوں نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے ساتھ اور کسی شخص نے دیکھا ہے؟ اس نے کہا: فلاں شخص نے بھی دیکھا ہے، جب اس شخص سے سوال کیا گیا تو اس نے چھپایا، اور ان کا طریقہ یہ تھا کہ جو جھوٹ بولے، اسے قتل کر دیا جائے، الغرض اس شخص نے اس عورت سے نکاح کر لیا، جس نے اپنا دین چھپایا تھا، (اور خضر کا نام نہیں بتایا تھا)، اسی دوران کہ یہ عورت فرعون کی بیٹی کے سر میں کنگھی کر رہی تھی، اتنے میں اس کے ہاتھ سے کنگھی گر پڑی اور اس کی زبان سے بے اختیار نکل گیا کہ فرعون تباہ و برباد ہو (اپنی بے دینی کی وجہ سے) بیٹی نے یہ کلمہ اس کی زبان سے سن کر اسے اپنے باپ کو بتا دیا، اور اس عورت کے دو بیٹے تھے، اور ایک شوہر تھا، فرعون نے ان سبھوں کو بلا بھیجا، اور عورت اور اس کے شوہر کو دین اسلام چھوڑ کر اپنے دین میں آنے کے لیے پھسلایا، ان دونوں نے انکار کیا، تو اس نے کہا: میں تم دونوں کو قتل کر دوں گا، ان دونوں نے جواب دیا: اگر تم ہمیں قتل کرنا چاہتے ہو تو ہم پر اتنا احسان کرنا کہ ہمیں ایک ہی قبر میں دفن کر دینا، چنانچہ فرعون نے ایسا ہی کیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسراء کی رات میں خوشبو محسوس کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل سے پوچھا تو انہوں نے آپ کو بتلایا کہ یہ انہیں لوگوں کی قبر ہے (جس سے یہ خوشبو آ رہی ہے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4030]
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (سفر معراج کے دوران میں ایک جگہ) عمدہ خوشبو محسوس ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جبریل! یہ عمدہ خوشبو کیسی ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ ماشطہ کی، ان کے دو بیٹوں کی اور ان کے شوہر کی قبروں کی خوشبو ہے۔ انہوں نے فرمایا: ان کا واقعہ یوں ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام بنی اسرائیل کے معزز افراد میں سے تھے۔ وہ (اپنے کام کاج کے سلسلے میں) ایک راہب کے پاس سے گزرتے جو اپنے عبادت خانے میں ہوتا تھا۔ وہ انہیں اسلام کی تعلیم دیتا۔ جب خضر علیہ السلام جوان ہوئے تو ان کے والد نے ایک عورت سے ان کی شادی کر دی۔ خضر علیہ السلام نے اسے (اسلام کی) تعلیم دی اور اس سے وعدہ لیا کہ کسی کو نہیں بتائے گی۔ وہ عورتوں کے قریب نہیں جاتے تھے۔ انہوں نے اس عورت کو طلاق دے دی۔ ان کے والد نے ایک اور عورت سے ان کی شادی کر دی۔ انہوں نے اسے بھی (اسلام کی) تعلیم دی اور اس سے وعدہ لیا کہ وہ کسی کو نہیں بتائے گی۔ ان میں سے ایک عورت نے تو راز رکھا جبکہ دوسری نے ظاہر کر دیا۔ وہ (وطن سے) بھاگ گئے حتیٰ کہ سمندر میں ایک جزیرے میں جا پہنچے۔ (وہاں) دو آدمی ایندھن جمع کرنے آئے۔ انہوں نے خضر علیہ السلام کو دیکھ لیا۔ ان میں سے ایک نے راز رکھا، دوسرے نے ظاہر کر دیا۔ اس نے کہا: میں نے خضر کو دیکھا ہے۔ اس سے پوچھا گیا: تیرے ساتھ اور کس نے دیکھا ہے؟ اس نے کہا: فلاں نے۔ اس سے پوچھا گیا تو اس نے راز چھپا لیا۔ ان کے ہاں یہ قانون تھا کہ جو شخص جھوٹ بولے، اسے قتل کر دیا جائے۔ اس (چھپانے والے) نے اس عورت سے شادی کی، وہ فرعون کی بیٹی کو کنگھی کر رہی تھی کہ کنگھی (اس کے ہاتھ سے) گر گئی۔ اس نے کہا: فرعون کا برا ہو۔ اس نے اپنے باپ کو بتایا۔ اس عورت (ماشطہ کنگھی کرنے والی) کا خاوند بھی تھا اور دو بیٹے تھے۔ فرعون نے انہیں بلوا لیا۔ اس نے ان میاں بیوی کو دین سے پھیرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ اس نے کہا: میں تمہیں قتل کر دوں گا۔ انہوں نے کہا: اگر تو ہمیں قتل کرے تو ہم پر یہ احسان کرنا کہ ہمیں ایک جگہ دفن کرنا۔ اس نے ایسے ہی کیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمدہ خوشبو محسوس ہوئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل علیہ السلام سے دریافت کیا تو انہوں نے یہ بات سنائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4030]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 50، ومصباح الزجاجة: 1420) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (یہ سند ضعیف ہے، اس لئے کہ اس میں سعید بن بشیر ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد بن بشير: ضعيف
وقتادة عنعن
ولبعض الحديث شاهد عند أحمد (309/1،310) وسنده حسن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 520
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4031
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" عِظَمُ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ , وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ , فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا , وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السُّخْطُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنی بڑی مصیبت ہوتی ہے اتنا ہی بڑا ثواب ہوتا ہے، اور بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو اسے آزماتا ہے، پھر جو کوئی اس سے راضی و خوش رہے تو وہ اس سے راضی رہتا ہے، اور جو کوئی اس سے خفا ہو تو وہ بھی اس سے خفا ہو جاتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4031]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیادہ ثواب بڑی آزمائش کا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو ان پر آزمائش ڈالتا ہے۔ جو راضی رہے اسے رضا ملے گی، اور جو ناراض ہو، اسے ناراضی حاصل ہوگی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4031]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الزہد 56 (2396)، (تحفة الأشراف: 849) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2396)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 520

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4032
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ صَالِحٍ a> , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ , أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يُخَالِطُ النَّاسَ وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مومن جو لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے، اور ان کی ایذاء پر صبر کرتا ہے، تو اس کا ثواب اس مومن سے زیادہ ہے جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے، اور ان کی ایذاء رسانی پر صبر نہیں کرتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4032]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مومن لوگوں سے ملتا جلتا ہے اور ان سے ملنے والی تکلیف پر صبر کرتا ہے، وہ اس مومن سے زیادہ ثواب حاصل کرلیتا ہے جو لوگوں سے ملتا جلتا نہیں اور ان کی طرف سے آنے والی تکلیف پر صبر نہیں کرتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4032]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة القیامة 55 (2507)، (تحفة الأشراف: 8565)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/43) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بلکہ عزلت اور تنہائی میں بسر کرتا ہے، یہ حدیث دلیل ہے ان لوگوں کی جو میل جول کو تنہائی اور گوشہ نشینی سے بہتر جانتے ہیں، بشرطیکہ میل جول کے آداب اور تقاضے کے مطابق زندگی گزارتا ہو، یعنی جمعہ، جماعت، عیدین اور جنازے میں حاضر ہو اور بیمار کی عیادت کرے اور لوگوں کو ایذا نہ دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں