سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب : مثل الدنيا
باب: دنیا کی مثال۔
حدیث نمبر: 4110
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ , وَمُحَمَّدٌ الصَّبَّاحُ , قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ , حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ , فَإِذَا هُوَ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ شَائِلَةٍ بِرِجْلِهَا , فَقَالَ:" أَتُرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى صَاحِبِهَا , فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى صَاحِبِهَا , وَلَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَزِنُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ , مَا سَقَى كَافِرًا مِنْهَا قَطْرَةً أَبَدًا".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذو الحلیفہ میں تھے کہ وہاں ایک مردہ بکری اپنے پاؤں اٹھائے ہوئے پڑی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو کیا تم یہ جانتے ہو کہ یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک ذلیل و بے وقعت ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جتنی یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک بے قیمت ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ بے وقعت ہے، اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ اس سے کافر کو ایک قطرہ بھی نہ چکھاتا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4110]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ذوالحلیفہ کے مقام پر تھے۔ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (راستے میں) ایک مری ہوئی بکری نظر آئی، (وہ مر کر پھول گئی تھی اور) اس کی ٹانگ اوپر اٹھی ہوئی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے، کیا یہ بکری مالک کی نظر میں حقیر ہے؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جتنی یہ بکری مالک کی نظر میں حقیر ہے، دنیا اللہ کی نظر میں اس سے زیادہ حقیر ہے۔ اگر دنیا اللہ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی وزن رکھتی تو وہ کسی کافر کو کبھی ایک قطرہ بھی پینے کو نہ دیتا۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4110]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4675، ومصباح الزجاجة: 1456)، وقد أخرجہ: (حم1/391، 441) (صحیح)» (سند میں زکریا بن منظور ضعیف ہے، لیکن شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 686- 943- 3482)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2320)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 524
إسناده ضعيف
ترمذي (2320)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 524
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4110
| للدنيا أهون على الله من هذه على صاحبها ولو كانت الدنيا تزن عند الله جناح بعوضة ما سقى كافرا منها قطرة أبدا |
Sunan Ibn Majah Hadith 4110 in Urdu
سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي