سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابٌ في الْمُكْثِرِينَ
باب: مالداروں کا بیان۔
حدیث نمبر: 4134
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ بُرْزِينَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ , حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ بُرْزِينَ , حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ , عَنْ الْبَرَاءِ السَّلِيطِيِّ , عَنْ نُقَادَةَ الْأَسَدِيِّ , قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ يَسْتَمْنِحُهُ نَاقَةً , فَرَدَّهُ , ثُمَّ بَعَثَنِي إِلَى رَجُلٍ آخَرَ , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ بِنَاقَةٍ , فَلَمَّا أَبْصَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهَا وَفِيمَنْ بَعَثَ بِهَا" , قَالَ نُقَادَةُ: فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَفِيمَنْ جَاءَ بِهَا؟ قَالَ:" وَفِيمَنْ جَاءَ بِهَا" , ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَحُلِبَتْ فَدَرَّتْ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَ فُلَانٍ" , لِلْمَانِعِ الْأَوَّلِ ," وَاجْعَلْ رِزْقَ فُلَانٍ يَوْمًا بِيَوْمٍ" لِلَّذِي بَعَثَ بِالنَّاقَةِ.
نقادہ اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک شخص کے پاس اونٹنی مانگنے کے لیے بھیجا، لیکن اس نے انکار کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک دوسرے شخص کے پاس بھیجا تو اس نے ایک اونٹنی بھیج دی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا تو فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس میں برکت دے اور جس نے اس کو بھیجا ہے اس میں بھی برکت عطا کرے“۔ نقادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یہ بھی دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ اس کو بھی برکت دے جو اسے لے آیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں جو اسے لایا ہے اس کو بھی برکت دے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کا دودھ دوہا گیا، اس نے بہت دودھ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! (پہلے اونٹنی نہ دینے والا شخص) کا مال زیادہ کر دے، اور جس نے اونٹنی بھیجی ہے اس کو رزق یومیہ دے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4134]
حضرت نقادہ (بن عبداللہ) اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک آدمی کی طرف بھیج کر اس سے ایک اونٹنی طلب فرمائی، اس شخص نے (اونٹنی دینے سے) انکار کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک اور آدمی کی طرف بھیجا، اس نے ایک اونٹنی بھجوا دی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کو دیکھا تو فرمایا: «اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهَا وَفِي صَاحِبِهَا» ”یا اللہ! اس میں برکت عطا فرما اور اسے بھیجنے والے کو بھی۔“ حضرت نقادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا جو اسے لے کر آیا (اس کے لیے بھی برکت کی دعا فرمائیں)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَفِي مَنْ جَاءَ بِهَا» ”اور جو اسے لے کر آیا (اللہ اسے بھی برکت دے)۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اسے دوہا گیا، اس نے بہت دودھ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پہلے شخص کے بارے میں، جس نے انکار کر دیا تھا، فرمایا: «اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ» ”یا اللہ! فلاں کا مال زیادہ فرما۔“ اور جس نے اونٹنی بھیجی تھی اس کے حق میں فرمایا: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَهُ كَفَافًا» ”یا اللہ! اس کو روز کا رزق روز دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4134]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11709، ومصباح الزجاجة: 1468)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/77) (ضعیف)» (سند میں براء سلیطی مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
البراء السليطي لم يوثقه غير ابن حبان وقال الذھبي: لا يعرف (ميزان الإعتدال: 302/1)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 526
إسناده ضعيف
البراء السليطي لم يوثقه غير ابن حبان وقال الذھبي: لا يعرف (ميزان الإعتدال: 302/1)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 526
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4134
| اللهم بارك فيها وفيمن بعث بها اللهم أكثر مال فلان واجعل رزق فلان يوما بيوم للذي بعث بالناقة |
Sunan Ibn Majah Hadith 4134 in Urdu
البراء السليطي ← نقادة بن مالك الأسدي