سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب في المكثرين
باب: مالداروں کا بیان۔
حدیث نمبر: 4133
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ مُسْلِمِ بْنِ مِشْكَمٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ غَيْلَانَ الثَّقَفِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ مَنْ آمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي , وَعَلِمَ أَنَّ مَا جِئْتُ بِهِ هُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِكَ , فَأَقْلِلْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ , وَحَبِّبْ إِلَيْهِ لِقَاءَكَ , وَعَجِّلْ لَهُ الْقَضَاءَ , وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِي وَلَمْ يُصَدِّقْنِي , وَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ مَا جِئْتُ بِهِ هُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِكَ , فَأَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ , وَأَطِلْ عُمُرَهُ".
عمرو بن غیلان ثقفی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! جو مجھ پر ایمان لائے، میری تصدیق کرے، اور اس بات پر یقین رکھے کہ جو کچھ میں لایا ہوں وہی حق ہے، اور وہ تیری جانب سے ہے تو اس کے مال اور اولاد میں کمی کر، اپنی ملاقات کو اس کے لیے محبوب بنا دے، اس کی موت میں جلدی کر، اور جو مجھ پر ایمان نہ لائے، میری تصدیق نہ کرے، اور نہ اس بات پر یقین رکھے کہ جو میں لے کر آیا ہوں وہی حق ہے، تیری جانب سے اترا ہے، تو اس کے مال اور اولاد میں اضافہ کر دے، اور اس کی عمر لمبی کر“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4133]
حضرت عمرو بن غیلان ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللَّهُمَّ مَنْ آمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي، وَعَلِمَ أَنَّ مَا جِئْتُ بِهِ هُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِكَ، فَأَقِلَّ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَحَبِّبْ إِلَيْهِ لِقَاءَكَ، وَعَجِّلْ لَهُ الْقَضَاءَ، وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِي وَلَمْ يُصَدِّقْنِي، وَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ مَا جِئْتُ بِهِ هُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِكَ، فَأَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَأَطِلْ عُمْرَهُ» ”اے اللہ! جو شخص مجھ پر ایمان لایا، میری تصدیق کی اور اس نے (دل سے) جان لیا کہ میں جو (شریعت) لے کر آیا ہوں وہ تیری طرف سے حق ہے، تو اسے کم مال اور اولاد دے، اور اسے اپنی ملاقات کی محبت نصیب فرما اور اسے جلدی موت عطا فرما۔ اور جو مجھ پر ایمان نہ لایا، میری تصدیق نہ کی اور یہ یقین نہ کیا کہ میں جو (شریعت) لے کر آیا ہوں وہ تیری طرف سے حق ہے، اس کو بہت مال اور اولاد دے، اور اس کی عمر طویل فرما دے۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4133]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10785، ومصباح الزجاجة: 1467) (ضعیف)» (سند ارسال کی وجہ سے ضعیف ہے، کیونکہ عمرو بن غیلان کی صحبت ثابت نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عمرو بن غيلان مختلف في صحبته وقال ابن البرقي: لا تصح له صحبة (الإصابة 10/3 ت 5928) وھذا ھو الصواب فالخبر مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 526
إسناده ضعيف
عمرو بن غيلان مختلف في صحبته وقال ابن البرقي: لا تصح له صحبة (الإصابة 10/3 ت 5928) وھذا ھو الصواب فالخبر مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 526
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4133
| اللهم من آمن بي وصدقني وعلم أن ما جئت به هو الحق من عندك فأقلل ماله وولده وحبب إليه لقاءك وعجل له القضاء ومن لم يؤمن بي ولم يصدقني ولم يعلم أن ما جئت به هو الحق من عندك فأكثر ماله وولده وأطل عمره |
Sunan Ibn Majah Hadith 4133 in Urdu
مسلم بن مشكم الخزاعي ← عمرو بن غيلان الثقفي