الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب : معيشة آل محمد صلى الله عليه وسلم
باب: آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معیشت (گزر بسر) کا بیان۔
حدیث نمبر: 4144
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , وَأَبُو أُسَامَةَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" إِنْ كُنَّا آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , لَنَمْكُثُ شَهْرًا مَا نُوقِدُ فِيهِ بِنَارٍ , مَا هُوَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْمَاءُ" , إِلَّا أَنَّ ابْنَ نُمَيْرٍ قَالَ: نَلْبَثُ شَهْرًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم مہینہ ایسے گزارتے تھے کہ ہمارے گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، سوائے کھجور اور پانی کے کچھ نہیں ہوتا تھا۔ ابن نمیر نے «نمكث شهرا» کے بجائے «نلبث شهرا» کہا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4144]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزہد 28 (2972)، (تحفةالأشراف: 16823، 1689)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الھبة 1 (2567)، الرقاق 16 (6458)، سنن الترمذی/صفة القیامة 34 (2471)، مسند احمد (6/182، 337) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة حماد بن أسامة القرشي ← هشام بن عروة الأسدي | ثقة ثبت | |
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام عبد الله بن نمير الهمداني ← حماد بن أسامة القرشي | ثقة صاحب حديث من أهل السنة | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← عبد الله بن نمير الهمداني | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4144 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4144
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زہدٌ، استغناء، قناعت اور سادگی کا بیان ہے۔
(2)
حیات مبارکہ کے آخری سالوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سال بھر کے لیے کھجوریں اور جو اکھٹے کرنا شروع کردیے تھے لیکن امہات المومنین سخاوت سے کام لیتے ہوئے جلد ہی خرچ کردیتی تھیں، اس لیے اکثر روٹی سالن اور گوشت وغیرہ کے بغیر گزارہ ہوتا تھا۔
بعض اوقات کھجوریں بھی میسر نہیں تھیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زہدٌ، استغناء، قناعت اور سادگی کا بیان ہے۔
(2)
حیات مبارکہ کے آخری سالوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سال بھر کے لیے کھجوریں اور جو اکھٹے کرنا شروع کردیے تھے لیکن امہات المومنین سخاوت سے کام لیتے ہوئے جلد ہی خرچ کردیتی تھیں، اس لیے اکثر روٹی سالن اور گوشت وغیرہ کے بغیر گزارہ ہوتا تھا۔
بعض اوقات کھجوریں بھی میسر نہیں تھیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4144]
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق