🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب : الحكمة
باب: حکمت و دانائی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4171
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ , حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ , حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ , عَنْ أَبِي أَيُّوبَ , قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عَلِّمْنِي وَأَوْجِزْ , قَالَ:" إِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ , فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ , وَلَا تَكَلَّمْ بِكَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْهُ , وَأَجْمِعِ الْيَأْسَ عَمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ".
ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آ کر کہا: اللہ کے رسول! مجھے کچھ بتائیے، اور مختصر نصیحت کیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو ایسی نماز پڑھو گویا کہ دنیا سے جا رہے ہو، اور کوئی ایسی بات منہ سے نہ نکالو جس کے لیے آئندہ عذر کرنا پڑے، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے پوری طرح مایوس ہو جاؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4171]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3476، ومصباح الزجاجة: 1479)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/412) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں عثمان بن جبیر مقبول عند المتابعہ ہیں، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 400)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عثمان بن جبير مجھول الحال،و ثقه ابن حبان وحده
و للحديث شواھد ضعيفة عند الحاكم (326/4۔327) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 527

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو أيوب الأنصاري، أبو أيوبصحابي
👤←👥عثمان بن جبير الأنصاري
Newعثمان بن جبير الأنصاري ← أبو أيوب الأنصاري
مقبول
👤←👥عبد الله بن عثمان القاري، أبو عثمان
Newعبد الله بن عثمان القاري ← عثمان بن جبير الأنصاري
مقبول
👤←👥الفضيل بن سليمان النميري، أبو سليمان
Newالفضيل بن سليمان النميري ← عبد الله بن عثمان القاري
صدوق له خطأ كثير
👤←👥محمد بن زياد الزيادي، أبو عبد الله
Newمحمد بن زياد الزيادي ← الفضيل بن سليمان النميري
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
4171
صل صلاة مودع ولا تكلم بكلام تعتذر منه وأجمع اليأس عما في أيدي الناس
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4171 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4171
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
وعظ و نصیحت میں حسب موقع اختصار یا تفصیل سے کام لینا چاہیے۔

(2)
نماز کا پورا فائدہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نماز میں پوری توجہ اور انہماک ہو۔
دل اللہ کی طرف پوری طرح متوجہ ہو اور نماز میں جو کچھ پڑھا جائے پوری طرح سوچ سمجھ کر اللہ کے حضور عجز ونیاز کی کیفیت کے ساتھ پڑھا جائے۔
ادب واحترام کے ساتھ کھڑے ہوکر غیر ضروری حرکتوں سے اجتناب کیا جائے۔

(3)
جب کسی انسان کو معلوم ہوکہ وہ تھوڑی دیر بعد دنیا سے رخصت ہونے والا ہے تو وہ اللہ کے سامنے انتہائی تضرع کا اظہار کرتا ہے اور خلوص سے دعا کرتا ہے۔
ہر نماز کو اسی طرح ادا کرنا چاہیے۔

(4)
بات کرتے وقت اس کے نتائج پر غور کرلینا چاہیے کیونکہ ایک دفعہ جو بات زبان سے نکل گئی وہ واپس نہیں ہوسکتی۔
بعض اوقات ایک غلط بات کے نقصانات لامحدود بھی ہوسکتے ہیں۔

(5)
دنیا میں انسان ایک دوسرے کے کام آتا ہے لیکن انسانوں کے دل بھی اللہ کے ہاتھ میں ہیں اس لیے امید بندوں سے نہیں اللہ سے ہونی چاہیے۔
اسی سے درخواست کرنی چاہیے کہ وہ حاجت پوری کردے جیسے بھی اس کی رحمت کا تقاضہ ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4171]