علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب : البراءة من الكبر والتواضع
باب: تکبر اور گھمنڈ سے بے زاری اور تواضع کا بیان۔
حدیث نمبر: 4177
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَسَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: إِنْ كَانَتِ الْأَمَةُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," فَمَا يَنْزِعُ يَدَهُ مِنْ يَدِهَا حَتَّى تَذْهَبَ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ مِنْ الْمَدِينَةِ فِي حَاجَتِهَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اگر اہل مدینہ میں سے کوئی ایک باندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنا ہاتھ نہ چھڑاتے، یہاں تک کہ وہ آپ کو اپنی ضرورت کے لیے جہاں چاہتی لے جاتی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4177]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”مدینہ والوں کی ایک لونڈی بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نہیں چھڑاتے تھے حتی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کسی کام کے لیے مدینہ میں جس جگہ چاہتی لے جاتی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4177]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1106، ومصباح الزجاجة: 1483)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/174، 215) (صحیح)» (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، لیکن شواہد سے حدیث صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: یہ آپ کے تواضع کا حال تھا کہ ایک لونڈی کے ساتھ تشریف لے جاتے، اور اس کا کام کر دیتے حالانکہ تمام مخلوقات میں آپ افضل اور اعلیٰ تھے، اور بڑے بڑے دنیا کے بادشاہ درجہ میں آپ کے غلام کے غلام سے بھی کم تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4177
| فما ينزع يده من يدها حتى تذهب به حيث شاءت من المدينة في حاجتها |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4177 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4177
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
معاشرے کے کمزور افراد سے زیادہ شفقت کا سلوک کرنا چاہیے۔
(2)
برے آدمی سردار یا امام کو کسی آدمی کا کام کرنے میں تکلف نہیں کرنا چاہیے۔
(3)
ضرورت کے وقت اجنبی عورت کے ساتھ کہیں جانا جائز ہے بشرطیکہ لوگوں کے دلوں میں غلط فہمی پیدا ہونے کا اندیشہ نہ ہو اور نہ تنہائی ہو۔
فوائد و مسائل:
(1)
معاشرے کے کمزور افراد سے زیادہ شفقت کا سلوک کرنا چاہیے۔
(2)
برے آدمی سردار یا امام کو کسی آدمی کا کام کرنے میں تکلف نہیں کرنا چاہیے۔
(3)
ضرورت کے وقت اجنبی عورت کے ساتھ کہیں جانا جائز ہے بشرطیکہ لوگوں کے دلوں میں غلط فہمی پیدا ہونے کا اندیشہ نہ ہو اور نہ تنہائی ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4177]
Sunan Ibn Majah Hadith 4177 in Urdu
علي بن زيد القرشي ← أنس بن مالك الأنصاري