🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. بَابُ : الرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ
باب: ریا اور شہرت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4202
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ , فَمَنْ عَمِلَ لِي عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ , غَيْرِي فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ وَهُوَ لِلَّذِي أَشْرَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں تمام شرکاء کے شرک سے مستغنی اور بے نیاز ہوں، جس نے کوئی عمل کیا، اور اس میں میرے علاوہ کسی اور کو شریک کیا، تو میں اس سے بری ہوں، اور وہ اسی کے لیے ہے جس کو اس نے شریک کیا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4202]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”میں دوسرے شریکوں کے مقابلے میں شراکت سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں۔ جس نے (بظاہر) میرے لیے عمل کیا، اس میں میرے سوا کسی اور کو بھی شریک کر لیا تو میں اس سے لاتعلق ہو جاتا ہوں اور وہ (عمل) اسی کے لیے ہوتا ہے جس کو اس نے (میرا) شریک بنایا۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4202]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14047، ومصباح الزجاجة: 1497)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزھد 5 (2985) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن يعقوب الجهني، أبو العلاء
Newعبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥العلاء بن عبد الرحمن الحرقي، أبو شبل
Newالعلاء بن عبد الرحمن الحرقي ← عبد الرحمن بن يعقوب الجهني
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد العزيز بن أبي حازم المخزومي، أبو تمام
Newعبد العزيز بن أبي حازم المخزومي ← العلاء بن عبد الرحمن الحرقي
ثقة
👤←👥محمد بن عثمان القرشي، أبو مروان
Newمحمد بن عثمان القرشي ← عبد العزيز بن أبي حازم المخزومي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
7475
أنا أغنى الشركاء عن الشرك من عمل عملا أشرك فيه معي غيري تركته وشركه
سنن ابن ماجه
4202
أنا أغنى الشركاء عن الشرك فمن عمل لي عملا أشرك فيه غيري فأنا منه بريء وهو للذي أشرك
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4202 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4202
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کسی اور کو شریک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دکھاوے کے لیے کام کیا جائے جس کے ذریعے سے اسے دنیوی مفاد حاصل ہو یا لوگوں کی نظر میں متقی اور پارسا کہلائے۔

(2)
ایسا عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔

(3)
وہ عمل دوسرے کے لیے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی اس کا کوئی ثواب نہیں دیتا۔
اگر ریا کار ثواب کا طالب ہے تو اسی انسان سے ثواب لے جس کو دکھانے کے لیے اس نے کام کیا ہے۔
ظاہر ہے انسان دوسرے انسان کو نیکی کا بدلہ نہیں دے سکتا اس لیے قیامت کے دن ریا کار کو شرمندگی ہوگی۔
اور اسے عمل کا کوئی ثواب یا فائدہ نہیں ملے گا۔

(4)
ریاکاری شرک اصغر ہے، اس سے وہ عمل تباہ ہوجاتا ہے جس میں ریا شامل ہو تاہم یہ شرک اکبر نہیں جس کی سزا دائمی جہنم ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4202]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7475
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے،میں شریکوں کی شراکت اور حصہ داروں سے بالکل بے نیاز ہوں،جس نے کوئی کام کیا،جس میں میرے ساتھ کسی اور کو شریک کیا،میں اس کو اس کےشریک کے ساتھ چھوڑدوں گا۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7475]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
کوئی انسان،
کوئی اچھا اور نیک کام کرتا ہے اور اس کی نیت میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا حصول نہیں بلکہ کسی اور کو خوش کرنایاکوئی مفاد مطلوب ہے،
تو اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو اس کے شریک کے لیے رہنے دیتا ہے،
اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت نہیں بخشتا یا اس انسان کو اس کے شرک کے حوالہ کردیتا ہے اور وہ آدمی آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ سے لوٹ جاتا ہے،
یعنی صرف اپنے مفادات کا اور دوسروں کی رضا کا اسیر بن کر رہ جاتا ہے،
اس لیے شرک کا لفظ مصدری معنی اور شریک کے معنی دونوں کے لیے استعمال ہوسکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7475]

Sunan Ibn Majah Hadith 4202 in Urdu