سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب : الرياء والسمعة
باب: ریا اور شہرت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4203
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ , وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ , أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ , أَخْبَرَنِي أَبِي , عَنْ زِيَادِ بْنِ مِينَاءَ , عَنْ أَبِي سَعْدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ ليَوْمَ الْقِيَامَةِ , لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ , نَادَى مُنَادٍ: مَنْ كَانَ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ , فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ تَعَالَى , فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ".
سعد بن ابی فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ (صحابی تھے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا، اس دن جس میں کوئی شک نہیں ہے، تو ایک پکارنے والا پکارے گا کہ جس نے کوئی کام اللہ تعالیٰ کے لیے کیا، اور اس میں کسی کو شریک کیا، تو وہ اپنا بدلہ شرکاء سے طلب کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام شریکوں کی شرکت سے بے نیاز ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4203]
صحابیِ رسول حضرت ابوسعد بن ابوفضالہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پہلے اور پچھلے تمام انسانوں کو جمع کرے گا، اور وہ دن ایسا ہے جس میں کوئی شک نہیں، تب ایک اعلان کرنے والا ایک اعلان کرے گا کہ جس نے اللہ کے لیے کیے ہوئے عمل میں (کسی کو) شریک کیا وہ اس عمل کا ثواب غیر اللہ ہی سے مانگے؛ کیونکہ اللہ دوسرے شریکوں کے مقابلے میں شراکت سے سب سے زیادہ بے نیاز ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4203]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر القرآن 19 (3154)، (تحفة الأشراف: 12044)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/215، 3/466) (حسن)» (سند میں زیاد بن میناء ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 5318)
قال الشيخ الألباني: حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3154
| إذا جمع الله الناس ليوم القيامة يوم لا ريب فيه نادى مناد من كان أشرك في عمل عمله لله أحدا فليطلب ثوابه من عند غير الله فإن الله أغنى الشركاء عن الشرك |
سنن ابن ماجه |
4203
| إذا جمع الله الأولين والآخرين ليوم القيامة ليوم لا ريب فيه نادى مناد من كان أشرك في عمل عمله لله فليطلب ثوابه من عند غير الله فإن الله أغنى الشركاء عن الشرك |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4203 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4203
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ریاکاری قیامت کے دن رسوائی کا باعث ہے۔
(2)
ثواب دینا صرف اللہ کا کام ہے لہٰذا کوئی کسی سے کوئی ثواب حاصل نہیں کرسکتا۔
اس لحاظ سے ریاکاری والے عمل بے کار ہیں جن کا ثواب نہ اللہ تعالی دے گا نہ عوام دے سکیں گے۔
(3)
ریاکاری قیامت کے دن شرمندگی کا باعث ہوگی۔
فوائد و مسائل:
(1)
ریاکاری قیامت کے دن رسوائی کا باعث ہے۔
(2)
ثواب دینا صرف اللہ کا کام ہے لہٰذا کوئی کسی سے کوئی ثواب حاصل نہیں کرسکتا۔
اس لحاظ سے ریاکاری والے عمل بے کار ہیں جن کا ثواب نہ اللہ تعالی دے گا نہ عوام دے سکیں گے۔
(3)
ریاکاری قیامت کے دن شرمندگی کا باعث ہوگی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4203]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3154
سورۃ الکہف سے بعض آیات کی تفسیر۔
ابوسعید بن ابی فضالہ انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن جس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے جمع کرے گا تو پکارنے والا پکار کر کہے گا: جس نے اللہ کے واسطے کوئی کام کیا ہو اور اس کام میں کسی کو شریک کر لیا ہو، وہ جس غیر کو اس نے شریک کیا تھا اسی سے اپنے عمل کا ثواب مانگ لے، کیونکہ اللہ شرک سے کلی طور پر بیزار و بے نیاز ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3154]
ابوسعید بن ابی فضالہ انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن جس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے جمع کرے گا تو پکارنے والا پکار کر کہے گا: جس نے اللہ کے واسطے کوئی کام کیا ہو اور اس کام میں کسی کو شریک کر لیا ہو، وہ جس غیر کو اس نے شریک کیا تھا اسی سے اپنے عمل کا ثواب مانگ لے، کیونکہ اللہ شرک سے کلی طور پر بیزار و بے نیاز ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3154]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مؤلف یہ حدیث ارشاد باری ﴿فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاء رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلا صَالِحًا وَلا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾ (الكهف: 110) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
وضاحت:
1؎:
مؤلف یہ حدیث ارشاد باری ﴿فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاء رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلا صَالِحًا وَلا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾ (الكهف: 110) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3154]
Sunan Ibn Majah Hadith 4203 in Urdu
زياد بن ميناء ← أبو سعد بن أبي فضالة الأنصاري