پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب : المداومة على العمل
باب: نیک کام کو ہمیشہ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4241
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ , حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَشْعَرِيُّ , عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي عَلَى صَخْرَةٍ , فَأَتَى نَاحِيَةَ مَكَّةَ فَمَكَثَ مَلِيًّا ثُمَّ انْصَرَفَ , فَوَجَدَ الرَّجُلَ يُصَلِّي عَلَى حَالِهِ فَقَامَ فَجَمَعَ يَدَيْهِ , ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالْقَصْدِ" , ثَلَاثًا ," فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو ایک چٹان پر نماز پڑھ رہا تھا، آپ مکہ کے ایک جانب گئے، اور کچھ دیر ٹھہرے، پھر واپس آئے، تو اس شخص کو اسی حالت میں نماز پڑھتے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اپنے دونوں ہاتھوں کو ملایا، پھر فرمایا: ”لوگو! تم میانہ روی اختیار کرو“، کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا ہے (ثواب دینے سے) یہاں تک کہ تم خود ہی (عمل کرنے سے) اکتا جاؤ“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4241]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو ایک چٹان پر نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے ایک حصے میں (کسی کام سے) تشریف لے آئے، وہاں کچھ دیر تشریف فرما رہے، پھر واپس تشریف لے گئے۔ دیکھا وہ آدمی اسی طرح نماز پڑھ رہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ جمع کر کے (اشارہ کرتے ہوئے) تین بار فرمایا: ”لوگو! (افراط و تفریط سے بچ کر) میانہ روی اختیار کرو۔“ پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں اکتاتا، تم ہی (عمل کرنے سے) اکتا جاتے ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4241]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2570، ومصباح الزجاجة: 1516) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سنت کی متابعت بہتر ہے، یعنی اسی قدر نماز اور روزہ اور وظائف پر مداومت کرنا جس قدر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت اور منقول ہے، اور اس میں شک نہیں کہ سنت کی پیروی ہر حال میں بہتر اور باعث برکت اور نور ہے، اور بہتر طریقہ وہی ہے جو وظاف و اوراد اور نوافل میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، انہی و ظائف واوراد پر قناعت کرے اور اہل و عیال اور دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ بھی مشغول رہے جیسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عيسى بن جارية الأنصاري عيسى بن جارية الأنصاري ← جابر بن عبد الله الأنصاري | ضعيف الحديث | |
👤←👥يعقوب القمي، أبو الحسن يعقوب القمي ← عيسى بن جارية الأنصاري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عمرو بن رافع البجلي، أبو حجر عمرو بن رافع البجلي ← يعقوب القمي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4241
| عليكم بالقصد ثلاثا إن الله لا يمل حتى تملوا |
Sunan Ibn Majah Hadith 4241 in Urdu
عيسى بن جارية الأنصاري ← جابر بن عبد الله الأنصاري