سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. باب : ذكر الشفاعة
باب: شفاعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4310
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری شفاعت قیامت کے دن میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہو گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4310]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہوں کے مرتکب افراد کے لیے (بھی) ہوگی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4310]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة القیامة 11 (2436)، (تحفة الأشراف: 2608) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
498
| لكل نبي دعوة قد دعا بها في أمته خبأت دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة |
جامع الترمذي |
2436
| شفاعتي لأهل الكبائر من أمتي |
سنن ابن ماجه |
4310
| شفاعتي يوم القيامة لأهل الكبائر من أمتي |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4310 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4310
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
(1)
قیامت کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کئی طرح کی ہوگی مثلاً:
جنت میں داخلے کے لیے شفاعت، جہنم سے نکالنے کے لیے شفاعت، بعض مومنوں کی بلندی درجات کے لیے شفاعت وغیرہ۔
(2)
کبیرہ گناہوں کے مرتکبین کے لیے جوشفاعت ہوگی وہ جہنم سے نکالنے کے لیے ہوگی۔
شرک اکبراور جو کفراسلام سے خارج کردیتا ہے۔
اس کفر اور شرک کے مرتکب افراد کے لیے شفاعت نہیں ہوگی اگرچہ وہ خود کو مسلمان ہی سمجھے۔
اسی طرح اعتقادی منافق بھی شفاعت سے محروم رہیں گے۔
فوائد ومسائل:
(1)
قیامت کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کئی طرح کی ہوگی مثلاً:
جنت میں داخلے کے لیے شفاعت، جہنم سے نکالنے کے لیے شفاعت، بعض مومنوں کی بلندی درجات کے لیے شفاعت وغیرہ۔
(2)
کبیرہ گناہوں کے مرتکبین کے لیے جوشفاعت ہوگی وہ جہنم سے نکالنے کے لیے ہوگی۔
شرک اکبراور جو کفراسلام سے خارج کردیتا ہے۔
اس کفر اور شرک کے مرتکب افراد کے لیے شفاعت نہیں ہوگی اگرچہ وہ خود کو مسلمان ہی سمجھے۔
اسی طرح اعتقادی منافق بھی شفاعت سے محروم رہیں گے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4310]
Sunan Ibn Majah Hadith 4310 in Urdu
محمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري