🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب : ذكر الشفاعة
باب: شفاعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4311
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَسَدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ , حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ , عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ , عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ , عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُيِّرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ وَبَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ , فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ لِأَنَّهَا أَعَمُّ وَأَكْفَى , أَتُرَوْنَهَا لِلْمُتَّقِينَ لَا , وَلَكِنَّهَا لِلْمُذْنِبِينَ الْخَطَّائِينَ الْمُتَلَوِّثِينَ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اختیار دیا گیا کہ شفاعت اور آدھی امت کے جنت میں داخل ہونے میں سے ایک چیز چن لوں، تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا، کیونکہ وہ عام ہو گی اور کافی ہو گی، کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ شفاعت متقیوں کے لیے ہے؟ نہیں، بلکہ یہ ایسے گناہگاروں کے لیے ہے جو غلطی کرنے والے اور گناہوں سے آلودہ ہوں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4311]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے شفاعت اور آدھی امت کے جنت کے داخلے میں سے کوئی ایک چیز منتخب کرنے کی اجازت دی گئی، تو میں نے شفاعت کو منتخب کر لیا، کیونکہ یہ زیادہ افراد کو شامل کرنے والی اور زیادہ کفایت کرنے والی ہے۔ کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ یہ پرہیزگاروں کے لیے ہوگی؟ نہیں، بلکہ یہ گناہ گاروں، خطاکاروں اور (گناہوں میں) لتھڑے ہوئے لوگوں کے لیے ہوگی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8989، ومصباح الزجاجة: 1542) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں اضطراب کی وجہ سے یہ سیاق ضعیف ہے، اول حدیث «خيرت بين الشفاعة» دوسرے طریق سے صحیح ہے لیکن «لأنها أعم الخ» ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3585 و السنة لابن أبی عاصم: 891)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله لأنها
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥ربعي بن حراش العبسي، أبو مريم
Newربعي بن حراش العبسي ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥نعيم بن أبي هند الأشجعي
Newنعيم بن أبي هند الأشجعي ← ربعي بن حراش العبسي
ثقة رمي بالنصب
👤←👥زياد بن خيثمة الجعفي
Newزياد بن خيثمة الجعفي ← نعيم بن أبي هند الأشجعي
ثقة
👤←👥شجاع بن الوليد السكوني، أبو بدر
Newشجاع بن الوليد السكوني ← زياد بن خيثمة الجعفي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي الحارث البغدادي، أبو إسحاق
Newإسماعيل بن أبي الحارث البغدادي ← شجاع بن الوليد السكوني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
4311
خيرت بين الشفاعة وبين أن يدخل نصف أمتي الجنة فاخترت الشفاعة لأنها أعم وأكفى أترونها للمتقين لا ولكنها للمذنبين الخطائين المتلوثين
المعجم الصغير للطبراني
1096
خيرني بين أن يدخل نصف أمتي الجنة أو الشفاعة فاخترت الشفاعة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4311 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4311
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
 
(1)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے انتہائی خیر خواہ تھے۔
اس لیے امت کے لوگوں کا بھی فرض ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھیں انکے احکام کی تعمیل کریں۔
ان کے اسوہ کی پیروی کریں ان پہ درود پڑھیں اور انکے صحابہ کرام سے محبت کریں احترام کریں۔

(2)
آدھی امت کے بجائے شفاعت میں امید ہے زیادہ لوگوں کی مغفرت ہو جائے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منتخیب فرمایا۔

(3)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اللہ کے اذن کے تابع ہےاس لیے اللہ ہی سے دعا کرنی چاییے۔
کہ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جن کے حق میں شفاعت کی اجازت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوگی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4311]

Sunan Ibn Majah Hadith 4311 in Urdu