🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب : صفة النار
باب: جہنم کے احوال و صفات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4321
حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق , عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنَ الْكُفَّارِ , فَيُقَالُ: اغْمِسُوهُ فِي النَّارِ غَمْسَةً , فَيُغْمَسُ فِيهَا , ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: أَيْ فُلَانُ , هَلْ أَصَابَكَ نَعِيمٌ قَطُّ , فَيَقُولُ: لَا مَا أَصَابَنِي نَعِيمٌ قَطُّ , وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ الْمُؤْمِنِينَ ضُرًّا وَبَلَاءً , فَيُقَالُ: اغْمِسُوهُ غَمْسَةً فِي الْجَنَّةِ: فَيُغْمَسُ فِيهَا غَمْسَةً , فَيُقَالُ لَهُ: أَيْ فُلَانُ , هَلْ أَصَابَكَ ضُرٌّ قَطُّ أَوْ بَلَاءٌ , فَيَقُولُ: مَا أَصَابَنِي قَطُّ ضُرٌّ وَلَا بَلَاءٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن کافروں میں سے وہ شخص لایا جائے گا، جس نے دنیا میں بہت عیش کیا ہو گا، اور کہا جائے گا: اس کو جہنم میں ایک غوطہٰ دو، اس کو ایک غوطہٰ جہنم میں دیا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے فلاں! کیا تم نے کبھی راحت بھی دیکھی ہے؟ وہ کہے گا: نہیں، میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور مومنوں میں سے ایک ایسے مومن کو لایا جائے گا، جو سخت تکلیف اور مصیبت میں رہا ہو گا، اس کو جنت کا ایک غوطہٰ دیا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے کبھی کوئی تکلیف یا پریشانی دیکھی؟ وہ کہے گا: مجھے کبھی بھی کوئی مصیبت یا تکلیف نہیں پہنچی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4321]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اس کافر کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ نعمتوں والا تھا (جس کی زندگی سب سے زیادہ عیش و عشرت، خوشیوں اور نعمتوں میں گزری)، پھر کہا جائے گا: اسے آگ میں ایک غوطہ دو، اسے اس میں ایک غوطہ دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے فلاں! کیا تجھے کبھی کوئی نعمت (اور راحت) بھی حاصل ہوئی ہے؟ وہ کہے گا: نہیں، مجھے (زندگی بھر) کوئی نعمت (یا راحت) حاصل نہیں ہوئی، اور اس مومن کو لایا جائے گا جس پر سب سے زیادہ سخت مصیبتیں اور آزمائشیں آئیں، کہا جائے گا: اسے جنت میں اس کی نعمتوں کی ایک جھلک دکھا کر لاؤ، اسے جنت کی ایک جھلک دکھا کر لایا جائے گا اور کہا جائے گا: اے فلاں! کیا تجھے کوئی مصیبت اور آزمائش بھی آئی تھی؟ وہ کہے گا: مجھے تو (زندگی بھر) کبھی کوئی مصیبت یا آزمائش (اور تکلیف) نہیں آئی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4321]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 741) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة
Newحميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة مدلس
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← حميد بن أبي حميد الطويل
صدوق مدلس
👤←👥محمد بن سلمة الباهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن سلمة الباهلي ← ابن إسحاق القرشي
ثقة
👤←👥الخليل بن عمرو الثقفي، أبو عمرو
Newالخليل بن عمرو الثقفي ← محمد بن سلمة الباهلي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
7088
يؤتى بأنعم أهل الدنيا من أهل النار يوم القيامة فيصبغ في النار صبغة ثم يقال يا ابن آدم هل رأيت خيرا قط هل مر بك نعيم قط فيقول لا والله يا رب يؤتى بأشد الناس بؤسا في الدنيا من أهل الجنة فيصبغ صبغة في الجنة فيقال له يا ابن آدم هل رأيت بؤسا قط هل مر بك شدة قط
سنن ابن ماجه
4321
يؤتى يوم القيامة بأنعم أهل الدنيا من الكفار فيقال اغمسوه في النار غمسة فيغمس فيها ثم يقال له أي فلان هل أصابك نعيم قط فيقول لا ما أصابني نعيم قط يؤتى بأشد المؤمنين ضرا وبلاء فيقال اغمسوه غمسة في الجنة فيغمس فيها غمسة فيقال له أي فلان هل أصابك ضر قط أو بلا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4321 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4321
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
 
(1)
دنیا کی زندگی انتہائی مختصر زندگی ہے۔
اس کے مقابلے میں محشر کی مدت انتہائی طویل ہے اور محشر کے بعد جنت و جہنم کی زندگی کبھی نہ ختم ہونے والی دائمی زندگی ہے۔

(2)
جنت کی نعمتوں کے مقابلے میں دنیا کی نعمتیں سمندر کے مقابلے میں ایک قطرے کے برابر بھی نہیں۔
اسی طرح دنیا کی تکلیفوں اور جہنم کے عذابوں کی کیفیت ہے۔

(3)
دنیا کی ان نعمتوں کے لیے اللہ تعالی کو ناراض کر لینا بہت بڑی حماقت ہے۔
جو آخرت کے مقابلے میں انتہائی حقیر بھی ہیں، ناقص بھی اور عارضی بھی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4321]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7088
حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جہنمیوںمیں سے قیامت کے دن اس شخص کو لایا جائے گا جس کو دنیا میں سب سے زیادہ نعمتوں والی آسودہ زندگی ملی تھی،چنانچہ اسے آگ میں ایک غوطہ دیا جائے گا۔ پھر پوچھا جائے گا،اے آدم کے بیٹے!کیا کبھی تونے کسی قسم کی خیر آرام دیکھا؟ کیا کبھی تمھیں کوئی نعمت حاصل ہوئی؟ وہ کہے گا نہیں، اللہ کی قسم!اے میرے رب! اور دنیا میں سب سے زیادہ تنگ حال اور تکلیف دہ زندگی گزارنے والے کو اہل جنت میں سے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7088]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آج دنیا کی جن نعمتوں اور آسائشوں پر ہم فریفتہ ہیں اور ان کے اسیر ہیں،
ان کی وقعت اور حیثیت صرف اتنی ہے،
وہ دوزخ کی ایک ہی ڈبکی سے بھول جائیں گی اور ان کا سارا نشہ ہرن ہو جائے گا اور دنیا کی جن سختیوں اور کلفتوں سے ہم بھاگتے ہیں اور ان کی خاطردین و شریعت کو نظر انداز کرتے ہیں،
بلکہ اس کی حفاظت کرتے ہیں،
وہ اس قدر بے وقعت اور حقیر ہیں کہ جنت میں ایک ہی ڈبکی سے بھول جائیں گی اور یہ احساس نہیں رہے گا اور کبھی میرا کسی سختی اور تکلیف وشدت سے بھی واسطہ پڑا تھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7088]

Sunan Ibn Majah Hadith 4321 in Urdu