علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب : صفة الجنة
باب: جنت کے احوال و صفات کا بیان۔
حدیث نمبر: 4332
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ الْأَنْصَارِيُّ , حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ الْمَعَافِرِيُّ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى , عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ لِأَصْحَابِهِ:" أَلَا مُشَمِّرٌ لِلْجَنَّةِ , فَإِنَّ الْجَنَّةَ لَا خَطَرَ لَهَا , هِيَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ نُورٌ يَتَلَأْلَأُ , وَرَيْحَانَةٌ تَهْتَزُّ , وَقَصْرٌ مَشِيدٌ , وَنَهَرٌ مُطَّرِدٌ , وَفَاكِهَةٌ كَثِيرَةٌ , نَضِيجَةٌ وَزَوْجَةٌ , حَسْنَاءُ جَمِيلَةٌ , وَحُلَلٌ كَثِيرَةٌ فِي مَقَامٍ أَبَدًا , فِي حَبْرَةٍ وَنَضْرَةٍ فِي دُارٍ عَالِيَةٍ سَلِيمَةٍ بَهِيَّةٍ" , قَالُوا: نَحْنُ الْمُشَمِّرُونَ لَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" قُولُوا: إِنْ شَاءَ اللَّهُ" , ثُمَّ ذَكَرَ الْجِهَادَ وَحَضَّ عَلَيْهِ.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ سے فرمایا: ”کیا کوئی جنت کے لیے کمر نہیں باندھتا؟ اس لیے کہ جنت جیسی کوئی اور چیز نہیں ہے، رب کعبہ کی قسم، وہ چمکتا ہوا نور ہے، خوشبودار پھول ہے جو جھوم رہا ہے، مضبوط محل ہے، بہتی نہر ہے، وہاں بہت سارے پکے ہوئے میوے اور تیار پھل ہیں، خوبصورت اور خوش اخلاق بیویاں ہیں، کپڑوں کے بہت سارے جوڑے ہیں، ہمیشگی کا مقام ہے، جہاں سدا بہار اور تازگی ہے، اونچا، محفوظ اور روشن محل ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اس کے لیے کمر باندھتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”کہو، ان شاءاللہ، پھر جہاد کا ذکر کیا، اور اس کی رغبت دلائی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4332]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”کیا کوئی ہے جو حصولِ جنت کے لیے کمر کس لے؟ کیونکہ جنت کی کوئی مثال نہیں۔ ربِ کعبہ کی قسم! اس میں تو جگمگ کرتا نور ہے، لہلہاتے ہوئے خوشبودار پودے ہیں، مضبوط (اور بلند و بالا) محل ہیں، بہتی نہریں ہیں، پکے ہوئے بے شمار پھل ہیں، حسین و جمیل (خوبصورت) بیوی ہے، کپڑوں کے بہت سے جوڑے ہیں، جہاں بلند و بالا محفوظ اور دلکش گھروں میں ہمیشہ نعمتوں اور خوشیوں میں رہنا ہے۔“ حاضرین نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے لیے ہم تیاری کریں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”ان شاء اللہ“۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کا ذکر فرمایا اور اس کی ترغیب دلائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4332]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 118، ومصباح الزجاجة: 1551) (ضعیف)» (سند میں ضحاک معافری لین الحدیث یعنی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
الضحاك المعافري وثقه ابن حبان وحده وقال الذهبي : لا يعرف (ميزان الإعتدال:327/2) وللحديث شاهد ضعيف جدًا عند الخطيب (252/4)
الضحاك المعافري وثقه ابن حبان وحده وقال الذهبي : لا يعرف (ميزان الإعتدال:327/2) وللحديث شاهد ضعيف جدًا عند الخطيب (252/4)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4332
| ألا مشمر للجنة فإن الجنة لا خطر لها هي نور يتلألأ وريحانة تهتز وقصر مشيد ونهر مطرد وفاكهة كثيرة نضيجة وزوجة حسناء جميلة وحلل كثيرة في مقام أبدا في حبرة ونضرة في دار عالية سليمة بهية قالوا نحن المشمرون لها يا رسول الله قال قولوا إن شاء الله |
Sunan Ibn Majah Hadith 4332 in Urdu
كريب بن أبي مسلم القرشي ← أسامة بن زيد الكلبي