سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
83. بَابُ : الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُ فِيهِ
باب: جماع والے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 541
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً، فَصَلَّى بِنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تُصَلِّي بِنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ:" نَعَمْ أُصَلِّي فِيهِ، وَفِيهِ أَيْ قَدْ جَامَعْتُ فِيهِ".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، آپ نے ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھائی، جسے آپ اس طرح لپیٹے ہوئے تھے کہ اس کا داہنا کنارا بائیں کندھے پر اور بایاں داہنے کندھے پر تھا، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھا لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، میں میں اس کو پہن کر نماز پڑھ لیتا ہوں، اگرچہ اسے پہن کر مباشرت بھی کی ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 541]
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے) باہر تشریف لائے اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ آپ نے ایک ہی کپڑا زیب تن کر کے ہمیں نماز پڑھائی جبکہ آپ نے اس کے دونوں کنارے مخالف سمتوں میں ڈال رکھے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں ایک کپڑا اوڑھ کر نماز پڑھا دیتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، میں اس کو پہن کر نماز پڑھ لیتا ہوں، اگرچہ اسے پہن کر مباشرت بھی کی ہو۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 541]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10945، ومصباح الزجاجة: 222) (حسن)» (اس حدیث کی سند میں حسن بن یحییٰ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن کے درجہ میں ہے، صحیح ابی داود: /390)
وضاحت: ۱؎: ان روایتوں سے ثابت ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی کپڑا خاص نماز کے لئے نہیں رہتا تھا، بلکہ روز مرہ کے کپڑوں سے ہی نماز بھی ادا کر لیتے تھے، اس لئے بعض لوگوں نے جو سجادے، جوڑے اور کپڑے نماز کے لئے خاص کر لئے ہیں، یہ بدعات و محدثات میں داخل ہیں، پھر اگر کوئی ان کو چھو لے تو ہندؤوں کی طرح چھوت سمجھتے ہیں، اور بھوت کی طرح الگ رہتے ہیں، ان کو وسواس خناس نے مبہوت کر دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد فيه الحسن بن يحيي (الخشني) اتفق الجمھور علي ضعفه ‘‘ يعني ضعفه الجمھور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 397
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد فيه الحسن بن يحيي (الخشني) اتفق الجمھور علي ضعفه ‘‘ يعني ضعفه الجمھور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 397
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
541
| نعم أصلي فيه وفيه أي قد جامعت فيه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 541 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث541
اردو حاشہ:
(1)
اگر کپڑا بڑا ہو اوراس سے جسم کے اکثر حصے چھپ جائیں تو نماز کے لیے کافی ہے یعنی یہ ضروری نہیں کہ نماز پڑھتے وقت دو یا تین کپڑے پہنے ہوئے ہوں۔
(2)
امام ہو یا مقتدی سر ڈھانپ کر نماز ادا کرنا ضروری نہیں۔
گو مستقل طور پر ننگے سر رہنا مستحسن طریقہ نہیں۔
(3)
یہ حکم مرد کے لیے ہے عورت کے لیے ضروری ہے کہ اس کے سر پر اوڑھنی بھی ہو یعنی اگر عورت لمبی قمیص پہن لے جس سے اس کے پاؤں چھپ جائیں اور سر پر کپڑا لےلے تو صرف دو کپڑوں میں اس کی نماز درست ہوجائے گی۔
(4)
ہمارے فاضل محقق نے اسے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ یہ روایت معناً اور متناً صحیح ہے جیسا کہ گزشتہ روایت میں ہے۔
غالباً اسی وجہ سے شیخ البانی ؒ نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے۔
(1)
اگر کپڑا بڑا ہو اوراس سے جسم کے اکثر حصے چھپ جائیں تو نماز کے لیے کافی ہے یعنی یہ ضروری نہیں کہ نماز پڑھتے وقت دو یا تین کپڑے پہنے ہوئے ہوں۔
(2)
امام ہو یا مقتدی سر ڈھانپ کر نماز ادا کرنا ضروری نہیں۔
گو مستقل طور پر ننگے سر رہنا مستحسن طریقہ نہیں۔
(3)
یہ حکم مرد کے لیے ہے عورت کے لیے ضروری ہے کہ اس کے سر پر اوڑھنی بھی ہو یعنی اگر عورت لمبی قمیص پہن لے جس سے اس کے پاؤں چھپ جائیں اور سر پر کپڑا لےلے تو صرف دو کپڑوں میں اس کی نماز درست ہوجائے گی۔
(4)
ہمارے فاضل محقق نے اسے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ یہ روایت معناً اور متناً صحیح ہے جیسا کہ گزشتہ روایت میں ہے۔
غالباً اسی وجہ سے شیخ البانی ؒ نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 541]
Sunan Ibn Majah Hadith 541 in Urdu
أبو إدريس الخولاني ← عويمر بن مالك الأنصاري