🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
83. باب : الصلاة في الثوب الذي يجامع فيه
باب: جماع والے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 540
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنَّهُ سَأَلَ أُخْتَه أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُ فِيهِ؟ قَالَتْ:" نَعَمْ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ أَذًى".
معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بہن ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جماع والے کپڑوں میں نماز پڑھتے تھے؟ کہا: ہاں، لیکن ایسا تب ہوتا تھا جب کپڑوں میں گندگی نہ لگی ہوتی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 540]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 133 (366)، سنن النسائی/الطہارة 186 (295)، (تحفة الأشراف: 15868)، وقد أخرجہ: مسند احمد6/325، 426)، سنن الدارمی/الصلاة 102 (1415) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥رملة بنت أبي سفيان الأموية، أم حبيبةصحابي
👤←👥معاوية بن أبي سفيان الأموي، أبو عبد الرحمن
Newمعاوية بن أبي سفيان الأموي ← رملة بنت أبي سفيان الأموية
صحابي
👤←👥معاوية بن حديج الخولاني، أبو عبد الرحمن، أبو نعيم
Newمعاوية بن حديج الخولاني ← معاوية بن أبي سفيان الأموي
صحابي صغير
👤←👥سويد بن قيس التجيبي
Newسويد بن قيس التجيبي ← معاوية بن حديج الخولاني
ثقة
👤←👥يزيد بن قيس الأزدي، أبو رجاء
Newيزيد بن قيس الأزدي ← سويد بن قيس التجيبي
ثقة فقيه وكان يرسل
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← يزيد بن قيس الأزدي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥محمد بن رمح التجيبي، أبو عبد الله
Newمحمد بن رمح التجيبي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
295
نعم إذا لم ير فيه أذى
سنن أبي داود
366
إذا لم ير فيه أذى
سنن ابن ماجه
540
هل كان رسول الله يصلي في الثوب الذي يجامع فيه قالت نعم إذا لم يكن فيه أذى
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 540 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث540
اردو حاشہ:
(1)
اس سے معلوم ہوا کہ ازدواجی عمل کے لیے الگ سے لباس رکھنا ضروری نہیں۔

(2)
جنابت کی وجہ سے وہ لباس ناپاک نہیں ہوجاتا جو صنفی عمل کے دوران میں جسم پر ہو۔
ہاں اگر کپڑے پر کچھ لگ جائے تو وہاں سے کپڑا دھو کر نماز پڑھ لے، ورنہ دھونے کی بھی ضرورت نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 540]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 295
کپڑے میں منی لگ جانے کا بیان۔
معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (اپنی بہن) ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے جس میں جماع کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں! جب آپ اس میں کوئی گندگی نہ دیکھتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 295]
295۔ اردو حاشیہ: آلودگی سے مراد منی یا خون وغیرہ کا لگنا ہے، اگر ایسا ہو تو متعلقہ حصے کا دھو لینا کافی ہے ورنہ ویسے ہی اس کپڑے میں نماز پڑھنا جائز ہے کیونکہ آلودگی نہ لگنے کی وجہ سے وہ پاک ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 295]