سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
97. باب في الجنب يستدفئ بامرأته قبل أن تغتسل
باب: غسل جنابت کے بعد شوہر اپنی جنبی بیوی کے بدن کی گرمی حاصل کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 580
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُرَيْثٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ، ثُمَّ يَسْتَدْفِئُ بِي قَبْلَ أَنْ أَغْتَسِلَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت فرماتے، پھر میرے غسل کرنے سے پہلے مجھ سے گرمی حاصل کرتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 580]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسلِ جنابت کرتے تھے، پھر میرے غسل کرنے سے پہلے مجھ سے (لپٹ کر) گرمی حاصل کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 580]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 91 (123)، (تحفة الأشراف: 17620) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں راوی «حریث» ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ جنابت حکمی نجاست ہے، اور اگر اس پر اور کوئی نجاست نہ لگی ہو تو جنبی کا بدن پاک ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (123)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
إسناده ضعيف
ترمذي (123)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
580
| يغتسل من الجنابة ثم يستدفئ بي قبل أن أغتسل |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 580 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث580
اردو حاشہ:
حدیث 534۔ 535 میں بیان ہوا کہ جنبی کا جسم ناپاک نہیں ہوتا، یعنی نجاست حکمی (جنابت)
نجاست حسی (پیشاب وغیرہ)
کی طرح نہیں۔
اس لحاظ سے مرد غسل کرنے کے بعد اگر اپنی جنبی بیوی کے ساتھ لیٹے تو کوئی حرج نہیں، تاہم یہ حدیث ضعیف ہے، لہٰذا اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل کہہ کر بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
حدیث 534۔ 535 میں بیان ہوا کہ جنبی کا جسم ناپاک نہیں ہوتا، یعنی نجاست حکمی (جنابت)
نجاست حسی (پیشاب وغیرہ)
کی طرح نہیں۔
اس لحاظ سے مرد غسل کرنے کے بعد اگر اپنی جنبی بیوی کے ساتھ لیٹے تو کوئی حرج نہیں، تاہم یہ حدیث ضعیف ہے، لہٰذا اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل کہہ کر بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 580]
Sunan Ibn Majah Hadith 580 in Urdu
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق