سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
96. باب في الوضوء بعد الغسل
باب: کیا غسل جنابت کے بعد وضو کی ضرورت ہے؟
حدیث نمبر: 579
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کے بعد وضو نہیں کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 579]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسلِ جنابت کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 579]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 79 (107)، سنن النسائی/الطہارة 160 (253)، (تحفة الأشراف: 16019، 16025)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 99 (250)، مسند احمد (6/68، 119، 154، 192، 253، 258) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت سے پہلے وضو کر لیتے تھے، پھر غسل کے بعد آپ نیا وضو نہ فرماتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (250) ترمذي (107)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (250) ترمذي (107)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
253
| لا يتوضأ بعد الغسل |
سنن النسائى الصغرى |
430
| لا يتوضأ بعد الغسل |
جامع الترمذي |
107
| لا يتوضأ بعد الغسل |
سنن ابن ماجه |
579
| لا يتوضأ بعد الغسل من الجنابة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 579 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث579
اردو حاشہ:
(1)
اس کی وجہ یہ ہے کہ غسل کرتے وقت پہلے استنجاء کرکے وضو کرلیتے تھے۔
اس کے بعد اعضائے مستورہ ومخصوصہ کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے، اس لیے غسل والے وضو ہی سے نماز پڑھ لیتے تھے۔
(2)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف کہا ہے جبکہ روایت میں مذکورہ مسئلہ فی نفسہ صحیح ہے، غالباً اسی وجہ سے دیگر محققین نے اسے حسن اور صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثيه، مسند إمام احمد: 455، 454/40، حديث: 24389)
(1)
اس کی وجہ یہ ہے کہ غسل کرتے وقت پہلے استنجاء کرکے وضو کرلیتے تھے۔
اس کے بعد اعضائے مستورہ ومخصوصہ کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے، اس لیے غسل والے وضو ہی سے نماز پڑھ لیتے تھے۔
(2)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف کہا ہے جبکہ روایت میں مذکورہ مسئلہ فی نفسہ صحیح ہے، غالباً اسی وجہ سے دیگر محققین نے اسے حسن اور صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثيه، مسند إمام احمد: 455، 454/40، حديث: 24389)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 579]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 430
غسل کرنے کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 430]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 430]
430۔ اردو حاشیہ: چونکہ مسنون غسل کی ابتدا ہی وضو سے ہوتی ہے، لہٰذا بعد میں وضو کی ضرورت نہیں، بشرطیکہ وضو کرنے کے بعد غسل کے دوران میں شرم گاہ کو ہاتھ نہ لگا ہو۔ اگر غسل مسنون نہ ہو، یعنی وضو کے بغیر کیا گیا ہو تو بعد میں وضو کرنا ہو گا۔ مزید دیکھیے، حدیث: 253 اور اس کا فائدہ۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 430]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 253
غسل کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 253]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 253]
253۔ اردو حاشیہ:
➊ مسنون غسل کی ابتدا ہی وضو سے ہوتی ہے، لہٰذا غسل کے بعد وضو کی کوئی ضرورت نہیں رہتی، بشرطیکہ اس نے وضو کے بعد دوران غسل میں اگلی اور پچھلی شرم گاہ کو ہاتھ نہ لگایا ہو ورنہ وضو دوبار ہ کرنا پڑے گا۔
➋ اسی طرح اگر اس نے مسنون غسل نہ کیا ہو، یعنی غسل کی ابتدا وضو سے نہ کی ہو، تب بھی اسے غسل کے بعد وضو کرنا پڑے گا۔
➊ مسنون غسل کی ابتدا ہی وضو سے ہوتی ہے، لہٰذا غسل کے بعد وضو کی کوئی ضرورت نہیں رہتی، بشرطیکہ اس نے وضو کے بعد دوران غسل میں اگلی اور پچھلی شرم گاہ کو ہاتھ نہ لگایا ہو ورنہ وضو دوبار ہ کرنا پڑے گا۔
➋ اسی طرح اگر اس نے مسنون غسل نہ کیا ہو، یعنی غسل کی ابتدا وضو سے نہ کی ہو، تب بھی اسے غسل کے بعد وضو کرنا پڑے گا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 253]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 107
غسل کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 107]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 107]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی:
درمیانِ غسل جو وضو کرچکا ہے وہ کافی ہے۔
1؎:
یعنی:
درمیانِ غسل جو وضو کرچکا ہے وہ کافی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 107]
Sunan Ibn Majah Hadith 579 in Urdu
الأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق