🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
102. . باب : فيمن يغتسل عند كل واحدة غسلا
باب: ہر بیوی سے ہمبستری کے بعد الگ الگ غسل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 590
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَمَّتِهِ سَلْمَى ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ، وَكَانَ يَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَجْعَلُهُ غُسْلًا وَاحِدًا؟ فَقَالَ:" هُوَ أَزْكَى وَأَطْيَبُ وَأَطْهَرُ".
ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس ہو آئے ۱؎، اور ہر ایک کے پاس غسل کرتے رہے، آپ سے پوچھا گیا: اللہ کے رسول! آپ آخر میں ایک ہی غسل کیوں نہیں کر لیتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: یہ طریقہ زیادہ پاکیزہ، عمدہ اور بہترین ہے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 590]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 86 (219)، (تحفة الأشراف: 12032)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/8، 10، 391) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں سلمی غیر معروف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے)۔
وضاحت: ۱؎: سبحان اللہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہایت نفیس مزاج اور صفائی پسند تھے، اور اسی وجہ سے آپ کو خوشبو بہت پسند تھی، اور بدبو سے بڑی نفرت تھی، آپ کو اپنے لباس، گھر، بدن اور ہر چیز کی طہارت اور پاکیزگی کا بڑا خیال رہتا تھا جیسے دوسری حدیثوں سے ثابت ہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان چیزوں کے کھانے سے بھی پرہیز کرتے تھے جن کی بو ناگوار ہوتی، جیسے: کچے پیاز یا لہسن وغیرہ۔ ۲؎: ممکن ہے ایسا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر سے آنے پر یا ایک باری پوری ہو جانے، اور دوسری باری کے شروع کرنے سے پہلے کیا ہو، یا تمام بیویوں کی رضا مندی سے ایسا کیا ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو رافع القبطي، أبو رافعصحابي
👤←👥سلمى
Newسلمى ← أبو رافع القبطي
مقبول
👤←👥عبد الرحمن بن أبي رافع
Newعبد الرحمن بن أبي رافع ← سلمى
صدوق حسن الحديث
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← عبد الرحمن بن أبي رافع
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥عبد الصمد بن عبد الوارث التميمي، أبو سهل
Newعبد الصمد بن عبد الوارث التميمي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب
Newإسحاق بن منصور الكوسج ← عبد الصمد بن عبد الوارث التميمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
219
طاف ذات يوم على نسائه يغتسل عند هذه وعند هذه قال قلت له يا رسول الله ألا تجعله غسلا واحدا قال هذا أزكى وأطيب وأطهر
سنن ابن ماجه
590
طاف على نسائه في ليلة وكان يغتسل عند كل واحدة منهن فقيل له يا رسول الله ألا تجعله غسلا واحدا فقال هو أزكى وأطيب وأطهر
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 590 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث590
اردو حاشہ:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صفائی اور نظافت کا بڑا اہتمام فرماتے تھے۔
اسی وجہ سے آپ خوشبو کو بے حد پسند کرتے تھے جبکہ بو اور بو والی اشیاء کو نہایت ناپسند کرتے تھے، لہذا پیاز،   لہسن یا اس قسم کی دوسری اشیاء جن کو کھانے سے ناگوار بو محسوس ہوتی ہے، آپ نے نماز کے لیے آنے سے قبل استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 590]