🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب في الإيمان
باب: ایمان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 61
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ نَجِيحٍ وَكَانَ ثِقَةً، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ:" كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ فِتْيَانٌ حَزَاوِرَةٌ، فَتَعَلَّمْنَا الْإِيمَانَ قَبْلَ أَنْ نَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ، ثُمَّ تَعَلَّمْنَا الْقُرْآنَ فَازْدَدْنَا بِهِ إِيمَانًا".
جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اور ہم طاقتور نوجوان تھے، ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے ایمان کو سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا، تو اس سے ہمارا ایمان اور زیادہ (بڑھ) ہو گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 61]
حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نصیب ہوا جب کہ ہم بھرپور جوان تھے، تو ہم نے قرآن کا علم حاصل کرنے سے پہلے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا تو اس سے ہمارے ایمان میں اضافہ ہو گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 61]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3264، ومصباح الزجاجة: 23) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جندب بن عبد الله البجلي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الملك بن حبيب الأسدي، أبو عمران
Newعبد الملك بن حبيب الأسدي ← جندب بن عبد الله البجلي
ثقة
👤←👥حماد بن نجيح الإسكاف، أبو عبد الله
Newحماد بن نجيح الإسكاف ← عبد الملك بن حبيب الأسدي
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← حماد بن نجيح الإسكاف
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 61 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث61
اردو حاشہ:
(1)
حدیث میں (حَزَاوِرَةٌ)
کا لفظ وارد ہوا ہے، جس کا واحد (حَزوَرَ)
ہے۔
اس سے مراد عمر کا وہ حصہ ہے جب جوانی کی پوری قوت حاصل ہو جاتی ہے۔
اس عمر میں نوجوانی کا کھلنڈرا پن ختم ہو چکا ہوتا ہے، لہذا انسان ہر کام کی طرف سنجیدگی سے توجہ دیتا ہے اور اسے اچھی طرح سمجھ سکتا ہے اور بڑھاپا ابھی شروع نہیں ہوتا کہ انسان یاد کرنے اور عمل کرنے کی مشقت برداشت نہ کر سکے۔
ان صحابہ کرام ؓ نے اس عمر میں دین کا علم حاصل کیا جو اس مقصد کے لیے بہترین عمر ہے۔

(2)
علم کا اصل مقصد عمل ہے، لہذا طالب علم کو چاہیے کہ جو علم حاصل کرے اس پر عمل بھی کرے تاکہ علم یاد بھی رہے اور اس کا فائدہ یعنی رضائے الہی بھی حاصل ہو۔

(3)
طالب علم کو ابتدائی مرحلے میں صرف مسائل بتانے چاہئیں۔
ان کے دلائل یا اختلافی مسائل کے دلائل کی تفصیل اور راجح قول کی وجہ ترجیح وغیرہ بعد کے مراحل میں بیان ہونے چاہئیں۔

(4)
توحید اور عقائد کا علم عبادات و معاملات کے علم سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مکی دور میں جو قرآنی سورتیں نازل ہوئی ہیں ان میں زیادہ زور عقیدے پر ہے۔
اور مدنی دور میں زیادہ تر معاملات بیان ہوئے۔

(5)
علم میں اضافے سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔

(6)
روایت کا آخری جملہ ایمان میں کمی بیشی پر دلیل ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 61]

Sunan Ibn Majah Hadith 61 in Urdu