سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
126. . باب في ما جاء في اجتناب الحائض المسجد
باب: حائضہ عورت مسجد سے دور رہے۔
حدیث نمبر: 645
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ الْهَجَرِيِّ ، عَنْ مَحْدُوجٍ الذُّهْلِيِّ ، عَنْ جَسْرَةَ ، قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَرْحَةَ هَذَا الْمَسْجِدِ فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ:" إِنَّ الْمَسْجِدَ لَا يَحِلُّ لِجُنُبٍ، وَلَا لِحَائِضٍ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد کے صحن میں داخل ہوئے اور بآواز بلند اعلان کیا: ”مسجد کسی حائضہ اور جنبی کے لیے حلال نہیں“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 645]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد کے صحن میں داخل ہوئے اور بلند آواز سے اعلان فرمایا: ”کسی جنبی یا حائضہ کو مسجد میں داخل ہونا جائز نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 645]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18251، ومصباح الزجاجة: 242) (ضعیف)» (اس سند میں ابوالخطاب الہجری، اور محدوج الذہلی دونوں مجہول الحال ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو الخطاب و محدوج مجھولان (تقريب: 8081،6498)
والحديث ضعفه البوصيري وحديث أبي داود (232) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 401
إسناده ضعيف
أبو الخطاب و محدوج مجھولان (تقريب: 8081،6498)
والحديث ضعفه البوصيري وحديث أبي داود (232) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 401
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
645
| إن المسجد لا يحل لجنب ولا لحائض |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 645 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث645
اردو حاشہ:
اس حدیث کی سند بعض کے نزدیک ضعیف اور بعض کے نزدیک شواہد کی بناء پر حسن ہے اس لیے اس میں بیان کردہ مسئلہ صحیح ہے اور اس پر علماءکا اتفاق ہے۔
اس حدیث کی سند بعض کے نزدیک ضعیف اور بعض کے نزدیک شواہد کی بناء پر حسن ہے اس لیے اس میں بیان کردہ مسئلہ صحیح ہے اور اس پر علماءکا اتفاق ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 645]
Sunan Ibn Majah Hadith 645 in Urdu
جسرة بنت دجاجة العامرية ← أم سلمة زوج النبي