🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
127. . باب : ما جاء في الحائض ترى بعد الطهر الصفرة والكدرة
باب: حیض سے پاک ہونے کے بعد حائضہ زرد اور خاکی رطوبت دیکھے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 647
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ:" لَمْ نَكُنْ نَرَى الصُّفْرَةَ، وَالْكُدْرَةَ شَيْئًا".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم حیض سے (پاکی کے بعد) زرد یا گدلے مادہ کو کچھ بھی نہیں سمجھتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 647]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحیض 25 (326)، سنن ابی داود/الطہارة 119 (308)، سنن النسائی/الحیض 7 (368)، (تحفة الأشراف: 18096، 18123)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطہارة 94 (895) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم عطية الأنصارية، أم عطيةصحابية
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر
Newمحمد بن سيرين الأنصاري ← أم عطية الأنصارية
ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← محمد بن سيرين الأنصاري
ثقة ثبتت حجة
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← أيوب السختياني
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ جليل
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 647 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث647
اردو حاشہ:
(1َ)
مطلب یہ ہے کہ ہماری نظر میں وہ حیض شمار نہیں ہوتا تھا۔
پہلی حدیث میں مذکور ہے کہ یہ حکم پاک ہونے کے بعد ہے اگر زرد یا مٹیالے رنگ کے بعد پھر سرخ خون آ جائے تو یہ سب حیض میں شمار ہوگا۔

(2)
امام ابن ماجہ رحمہ اللہ  کے استاد جناب محمد بن یحی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو دو سندوں سے بیان کیا ہے۔
ایک سند میں ہے کہ ایوب نے یہ حدیث ابن سیرین رحمہ اللہ سے انھوں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے سنی جب کہ دوسری سند میں ایوب اور ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے درمیان حفصہ کا واسطہ ہے۔
محمد بن یحی نے دوسری سند کو ترجیح دی ہے تاہم اس اختلاف سے حدیث کی صحت میں فرق نہیں پڑتا کیونکہ ابن سیرین اور حفصہ دونوں ثقہ اور قابل اعتماد ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 647]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 647M
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ:" كُنَّا لَا نَعُدُّ الصُّفْرَةَ، وَالْكُدْرَةَ شَيْئًا"، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: وُهَيْبٌ أَوْلَاهُمَا عِنْدَنَا بِهَذَا.
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: (پاکی کے بعد) ہم پیلی اور مٹیالی رطوبت کا کوئی اعتبار نہیں کرتے تھے ۱؎۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: وہیب اس سلسلے میں ہمارے نزدیک ان دونوں میں اولیٰ ہیں۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 647M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: 18123)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض 25 (326) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ جب عورت کے حیض کی مدت ختم ہو جائے اور وہ غسل کر ڈالے، تو اس کے بعد زردی یا خاکی یا سفیدی نکلتی دیکھے تو شک میں نہ پڑے، وہ حیض نہیں ہے، البتہ حیض کی مدت کے اندر جب اول اور آخر حیض آئے، اور بیچ میں اس قسم کے رنگ دیکھے تو وہ حیض ہی میں شمار ہو گا، اہل حدیث کا یہی قول ہے اور یہی صحیح ہے۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم عطية الأنصارية، أم عطيةصحابية
👤←👥حفصة بنت سيرين الأنصارية، أم الهذيل
Newحفصة بنت سيرين الأنصارية ← أم عطية الأنصارية
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← حفصة بنت سيرين الأنصارية
ثقة ثبتت حجة
👤←👥وهيب بن خالد الباهلي، أبو بكر
Newوهيب بن خالد الباهلي ← أيوب السختياني
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن عبد الله الرقاشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الله الرقاشي ← وهيب بن خالد الباهلي
ثقة
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← محمد بن عبد الله الرقاشي
ثقة حافظ جليل