🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب : وقت صلاة المغرب
باب: نماز مغرب کا وقت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 689
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَنْبَأَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّى تَشْتَبِكَ النُّجُومُ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن مَاجَةَ: سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى، يَقُولُ: اضْطَرَبَ النَّاسُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ بِبَغْدَادَ، فَذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ الْأَعْيَنُ، إِلَى الْعَوَّامِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، فَأَخْرَجَ إِلَيْنَا أَصْلَ أَبِيهِ، فَإِذَا الْحَدِيثُ فِيهِ.
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت ہمیشہ فطرت (دین اسلام) پر رہے گی، جب تک وہ مغرب کی نماز میں اتنی تاخیر نہ کرے گی کہ تارے گھنے ہو جائیں۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن یحییٰ کو کہتے سنا: اس حدیث کے بارے میں اہل بغداد نے اختلاف کیا، چنانچہ میں اور ابوبکر الاعین عوام بن عباد بن عوام کے پاس گئے، تو انہوں نے اپنے والد کا اصل نسخہ نکالا تو اس میں یہ حدیث موجود تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 689]
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت اس وقت تک دینِ فطرت (دینِ اسلام) پر قائم رہے گی، جب تک مغرب میں اتنی تاخیر نہ کرے کہ ستارے خوب نکل آئیں۔ امام ابو عبداللہ ابن ماجہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے محمد بن یحییٰ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ لوگ بغداد میں اس حدیث کے بارے میں مضطرب ہوئے تو میں اور ابوبکر الاعین، عوام بن عباد بن عوام کے پاس گئے تو وہ اپنے باپ کی اصل (کتاب) ہمارے پاس لائے، تو اس میں یہ حدیث موجود تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 689]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5125، ومصباح الزجاجة: 257)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 6 (418) مسند احمد (4/147، 5/417، 422)، سنن الدارمی/الصلاة 17 (1246) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: شرح السنہ میں ہے کہ اہل علم (صحابہ اور تابعین) نے اختیار کیا ہے کہ مغرب کی نماز جلدی پڑھی جائے، اور جس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مغرب کی تاخیر منقول ہے وہ بیان جواز کے لئے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥العباس بن عبد المطلب الهاشمي، أبو الفضلصحابي
👤←👥الأحنف بن قيس التميمي، أبو بحر
Newالأحنف بن قيس التميمي ← العباس بن عبد المطلب الهاشمي
ثقة
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← الأحنف بن قيس التميمي
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← الحسن البصري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥عمر بن إبراهيم العبدي، أبو حفص
Newعمر بن إبراهيم العبدي ← قتادة بن دعامة السدوسي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عباد بن العوام الكلابي، أبو سهل
Newعباد بن العوام الكلابي ← عمر بن إبراهيم العبدي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن موسى التميمي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن موسى التميمي ← عباد بن العوام الكلابي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← إبراهيم بن موسى التميمي
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
689
لا تزال أمتي على الفطرة ما لم يؤخروا المغرب حتى تشتبك النجوم
المعجم الصغير للطبراني
185
لا تزال أمتي على الفطرة ما لم يؤخروا المغرب حتى تشتبك النجوم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 689 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث689
اردو حاشہ:
(1)
نماز اول وقت پڑھنا افضل ہے خاص کرکے مغرب کی نماز میں تاخیر کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ اس کا وقت دوسری نمازوں کی نسبت کم ہوتا ہے۔

(2)
نمازوں کو تاخیر سے پڑھنا بھی دین سے ایک قسم کی روگردانی ہے۔

(3)
بعض زیادہ روشن ستارے ایسے بھی ہیں کہ سورج غروب ہوتے ہی ظاہر ہوجاتے ہیں اس لیے چند ستاروں کا نظر آ جانا تاخیر کی علامت نہیں جب تک ستارے کافی تعداد میں نہ نکل آئیں۔

(4) (تَشْتَبِكَ)
کا لفظ شَبْكَة (جال)
سے بنایا گیا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ستارے اس کثرت سے نظر آنے لگیں کہ آسمان پر ستاروں کا جال بچھ جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 689]

Sunan Ibn Majah Hadith 689 in Urdu